Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1528

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِن الله تعالي يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: يَا ابْنَ آدَمَ مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي قَالَ: يَا رَبِّ كَيْفَ أَعُودُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ قَالَ: أَمَّا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلَانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ؟ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ عُدْتَهٗ لَوَجَدْتَنِي عِنْدَهُ؟ يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمْنِي قَالَ: يَا رَبِّ كَيْفَ أُطْعِمُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ قَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهٗ اسْتَطْعَمَكَ عَبْدِي فُلَانٌ فَلَمْ تُطْعِمْهُ؟ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ أَطْعَمْتَهٗ لَوَجَدْتَ ذٰلِكَ عِنْدِي؟ يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَسْقَيْتُكَ فَلَمْ تُسْقِنِي قَالَ: يَا رَبِّ كَيْفَ أَسْقِيكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ قَالَ: اسْتَسْقَاكَ عَبْدِي فُلَانٌ لَمْ تُسْقِهٖ أما إِنَّك لَو سَقَيْتُهٗ لَوَجَدْتُّ ذٰلِكَ عِنْدِيْ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " إن الله تعالي يقول يوم القيامة: يا ابن آدم مرضت فلم تعدني قال: يا رب كيف أعودك وأنت رب العالمين؟ قال: أما علمت أن عبدي فلانا مرض فلم تعده؟ أما علمت أنك لو عدته لوجدتني عنده؟ يا ابن آدم استطعمتك فلم تطعمني قال: يا رب كيف أطعمك وأنت رب العالمين؟ قال: أما علمت أنه استطعمك عبدي فلان فلم تطعمه؟ أما علمت أنك لو أطعمته لوجدت ذلك عندي؟ يا ابن آدم استسقيتك فلم تسقني قال: يا رب كيف أسقيك وأنت رب العالمين؟ قال: استسقاك عبدي فلان لم تسقه أما إنك لو سقيته لوجدت ذلك عندي ". رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ الله تعالٰی قیامت کے دن فرمائے گا اے انسان میں بیمار ہوا تو نے میری مزاج پرسی نہ کی بندہ کہے گا الٰہی میں تیری عیادت کیسے کرتا تو تو جہانوں کا رب ہے فرمائے گا کیا تجھے خبر نہیں کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا تو تو نے اس کی بیمار پرسی نہ کی ۱∞؎کیا تجھے خبرنہیں کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا اے آدمی میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو نے مجھے نہ کھلایا عرض کرے گا الٰہی تجھے میں کیسےکھلاتا تو تو جہانوں کا رب ہے فرمائے گا کیا تجھےعلم نہیں کہ تجھ سے میرے فلاں بندے نے کھانا مانگا تونے اسے نہ کھلایا کیا تجھے پتہ نہیں کہ اگر تو اسے کھلاتا تو میرے پاس پاتا ۲؎اے انسان میں نے تجھ سے پانی مانگا تو تو نے مجھے نہ پلایا عرض کرے گا مولا میں تجھے کیسے پلاتا تو تو جہانوں کا رب ہے فرمائے گا تجھ سے میرے فلاں بندے نے پانی مانگا تو نے اسے نہ پلایا اگر تو اسے پلاتا تو آج میرے پاس وہ پاتا ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس میں اشارۃً یہ فرمایا گیا کہ بندہ مؤمن بیماری کی حالت میں رب تعالٰی سے اتنا قریب ہوتا ہے کہ اس کے پاس آنا گویا رب کے پاس ہی آناہے اور اس کی خدمت گویا رب کی اطاعت ہے بشرطیکہ صابروشاکرہوکیونکہ بیمار مؤمن کا دل ٹوٹا ہوتاہے اور ٹوٹے دل بیمار کاشانہ یار ہیں،حدیث قدسی ہے"اَنَاعِنْدَالْمُنْکَسِرَۃِ قُلُوْبُھُمْ لِاَجَلِیْ"میں ٹوٹے دل والوں کے پاس ہوں۔اس ترتیب سےمعلوم ہورہا ہے کہ بیمار پرسی اگلے اعمال سے افضل ہے کیونکہ حضورصلی الله علیہ وسلم نے اس کا ذکر پہلے کیا۔۲؎یعنی اس کھانے کا ثواب یہاں پاتا۔خیال رہے کہ بیمار پرسی کے بارے میں فرمایا کہ تو بیمار کے پاس مجھے پاتا اور بھوکوں کو کھانا کھلانے کے بارے میں فرمایا کہ تو اس کا ثواب یہاں پاتا۔معلوم ہوا کہ بیمار پرسی بہت اعلیٰ عبادت ہے۔۳؎اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ فقراءمساکین الله کی رحمت ہیں،ان کے پاس جانے،ان کی خدمتیں کرنے سے رب مل جاتا ہے،تو اولیاء الله کا کیا پوچھنا ان کی صحبت رب سے ملنے کا ذریعہ ہے،مولانا فرماتے ہیں۔شعر
ہر کہ خواہد ہم نشینی باخدا اونشیند در حضور اولیا
قرآن کریم فرماتا ہے:"
وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا"الایۃ"لَوَجَدُوا الله تَوَّابًا رَّحِیۡمًا۔صوفیاءفرماتے ہیں اس کے معنی یہ ہیں کہ جوگنہگارتمہارے پاس آجائے وہ خداکو پالے گا،مولانا کے شعر کا ماخذ یہ آیت اور یہ حدیث ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1528