Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1576

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّ عَلِيًّا خَرَجَ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْعِهِ الذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَقَالَ النَّاسُ: يَا أَبَا الْحَسَنِ كَيْفَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: أَصْبَحَ بِحَمْدِ الله بَارِئًا. رَوَاهُ البُخَارِيّ

وعن ابن عباس قال: إن عليا خرج من عند النبي صلى الله عليه وسلم في وجعه الذي توفي فيه فقال الناس: يا أبا الحسن كيف أصبح رسول الله صلى الله عليه وسلم ؟ قال: أصبح بحمد الله بارئا. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ حضرت علی مرتضٰی نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے پاس سے آئے آپ کی اس بیماری میں جس میں وفات ہوئی لوگوں نے کہا اے ابو الحسن رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے صبح کیسی کی فرمایاالحمدللّٰہصحت میں صبح کی ۱∞؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی آپ کے مرض میں کوئی ہلکا پن نہ تھا مگر جناب علی نے یہ فرمایا۔مطلب یہ ہے کہ خدا کے فضل سےحضورصلی الله علیہ وسلم کا قلب پاک تندرست ہے یاان شاءاللّٰہآپ قریب صحت ہیں۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ بیمار پرسی کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ بیمار کا حال آنے والے سے پوچھ لیا جائے۔دوسرے یہ کہ اگر بیمار کا حال خراب بھی ہو تب بھی لفظ اچھے بولے جائیں کہ اس میں فال بھی نیک ہے اور رحمتِ الٰہی کی امیدبھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1576