Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1530

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكٰى مِنَّا إِنْسَانٌ مَسَحَهٗ بِيَمِينِهٖ ثُمَّ قَالَ: “أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءٌ لَا يُغَادِرُ سَقَمًا» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عائشة قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا اشتكى منا إنسان مسحه بيمينه ثم قال: “أذهب الباس رب الناس واشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما» (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم جب ہم سے کوئی آدمی بیمار ہوتا تو اس پر اپنا ہاتھ مبارک پھیرتے اور فرماتے اے لوگوں کے رب بیماری دور کردے اسے شفا دے تو شافی ہے ۱∞؎شفا تو صرف تیری ہی ہے وہ شفا دے جو بیماری نہ چھوڑے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس سے معلوم ہوا کہ خدا تعالٰی کا ایسا نام لینا جو قران میں نہ ہو جائز ہے بشرطیکہ اس کے معنی خراب نہ ہوں،اس کی اصل قرآن مجید میں موجود ہو،شافی قرآن کے اسمائے الہیہ میں سے نہیں مگر اس کی اصل موجود ہے"فَہُوَ یَشْفِیۡنِ۲؎یہ "اَنْتَ الشَّافِیْ"کی تفسیر ہے۔اس سےمعلوم ہوا کہ ہمیشہ کامل نعمت کی دعا مانگو یعنی وہ شفا دے جو بیماری اور کمزوری سب کچھ دورکردے۔اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ بیمار پر ہاتھ پھیرنا بھی سنت ہے تاکہ کلام کی برکت کے ساتھ ہاتھ کی برکت بھی مریض کو پہنچے،یہ حدیث صوفیاء کے اس عمل کی اصل ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1530