Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1532

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكٰى نَفَثَ عَلیٰ نَفْسِهٖ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَمَسَحَ عَنْهُ بِيَدِهٖ فَلَمَّا اشْتَكٰى وَجَعَهُ الذِي تُوُفِّيَ فِيهِ كُنْتُ أَنْفِثُ عَلَيْهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ الَّتِي كَانَ يَنْفِثُ وَأَمْسَحُ بِيَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَتْ: كَانَ إِذَا مَرِضَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهٖ نَفَثَ عَلَيْهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ

وعن عائشة رضي الله عنها قالت: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا اشتكى نفث علی نفسه بالمعوذات ومسح عنه بيده فلما اشتكى وجعه الذي توفي فيه كنت أنفث عليه بالمعوذات التي كان ينفث وأمسح بيد النبي صلى الله عليه وسلم (متفق عليه) وفي رواية لمسلم قالت: كان إذا مرض أحد من أهل بيته نفث عليه بالمعوذات

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جب بیمار ہوتے تو اپنے پراعوذکی آیات دم کرتے اور اپنا ہاتھ وہاں پھیرتے ۱∞؎تو جب حضور کو وہ بیماری ہوئی جس میں حضور کی وفات ہوئی تو میں آپ پر وہی دعائیں دم کرتی جو آپ دم کرتے تھے اور آپ کا ہاتھ پھیرتی۲؎(مسلم،بخاری)اورمسلم کی روایت میں ہے فرماتی ہیں کہ جب حضور کے گھر والوں میں سےکوئی بیمارہوتا تو آپ اس پراعوذوالی آیات دم کرتے۳؎

شرح حدیث

۱∞؎عنہکی ضمیرنفثکی طرف ہے یعنی وہ آیات پڑھ کر اپنے ہاتھ پر دم کرتے،پھر ہاتھ شریف بیمار جگہ پر پھیر لیتے تاکہ آیت قرآنی کا دم شریف اور ہاتھ کی برکتیں جمع ہوجائیں۔اس حدیث سےصوفیاء کا دم درود بیمار جگہ پر ہاتھ پھیرنا سب ثابت ہوا۔۲؎یعنی مرضِ وفات میں حضورصلی الله علیہ وسلم نے تو دم و دعائیں ساری چھوڑ دی تھیں کیونکہ آپ جانتے تھے یہ بیماری آخری ہے اس سے شفاءنہیں۔(مرقاۃ)مگر ام المؤمنین مایوس نہ تھیں،شفاء کے لیے آیتیں پڑھتیں اور برکت کے لیے حضور صلی الله علیہ وسلم کے ہاتھ پر دم کرتیں۔۳؎جیسےفلقاورناسوغیرہ،یہاں ہاتھ پھیرنے کا ذکر نہیں کیونکہ آپ کبھی فقط دم کرتے تھے کبھی ہاتھ بھی پھیرتے تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1532