Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1579

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْس وَالصَّنَابِحِيِّ أَنَّهُمَا دَخَلَا عَلیٰ رَجُلٍ مَرِيضٍ يَعُودَانِهٖ فَقَالَا لَهٗ : كَيفَ أَصْبَحْتُ قَالَ أَصْبَحْتُ بِنِعْمَة. فَقَالَ لَهٗ شَدَّادٌ: أَبْشِرْ بِكَفَّارَاتِ السَّيِّئَاتِ وَحَطِّ الْخَطَايَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ إِذَا أَنَا ابْتَلَيْتُ عَبْدًا مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنًا فَحَمِدَنِي عَلیٰ مَا ابْتَلَيْتُهٗ فَإِنَّهٗ يَقُومُ مِنْ مَضْجَعِهٖ ذٰلِكَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهٗ مِنَ الْخَطَايَا. وَيَقُولُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالٰى: أَنَا قَيَّدْتُ عَبْدِي وَابْتَلَيْتُهٗ فَأَجْرُوا لَهٗ مَا كُنْتُمْ تُجْرُونَ لَهٗ وَهُوَ صَحِيح ". رَوَاهُ احْمَدُ

وعن شداد بن أوس والصنابحي أنهما دخلا علی رجل مريض يعودانه فقالا له : كيف أصبحت قال أصبحت بنعمة. فقال له شداد: أبشر بكفارات السيئات وحط الخطايا فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " إن الله عز وجل يقول إذا أنا ابتليت عبدا من عبادي مؤمنا فحمدني علی ما ابتليته فإنه يقوم من مضجعه ذلك كيوم ولدته أمه من الخطايا. ويقول الرب تبارك وتعالى: أنا قيدت عبدي وابتليته فأجروا له ما كنتم تجرون له وهو صحيح ". رواه احمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت شداد ابن اوس اور صنابحی سے ۱∞؎کہ وہ دونوں ایک مریض کی بیمار پرسی کے لیئے گئے انہوں نے اس سے کہا کہ تم نے صبح کیسی کی وہ بولے الله کی نعمت میں صبح کی۲؎شداد نے فرمایا گناہوں کے مٹنے اور خطاؤں کے جھڑنے کی خوش خبری لو میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ الله تعالٰی فرماتا ہے جب میں اپنے بندوں میں سےکسی مؤمن بندے کو مبتلا کردوں اور وہ اس مبتلا کرنے پر میری حمدکرے تو وہ اپنے اس بسترسے گناہوں سے یوں پاک اٹھے گا جیسے آج اسے ماں نے جنا۳؎رب تعالٰی فرمائے گا کہ میں نے اپنے بندے کو قید کیا مبتلا کیا تو اس کے لیئے وہ ثواب جاری کرو جوتم اس کے تندرستی میں جاری کرتے تھے ۴؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎شداد ابن اوس خودبھی صحابی ہیں اور والدبھی صحابی،حضرت حسان ابن ثابت کےبھتیجے ہیں،انہیں الله نے علم وحکمت دونوں عطا فرمائیں اور صنابحی کا نام عبد الله ہے،قبیلہ مراد کے صنابح ابن زاہر کے خاندان سے ہیں یا تابعی،بعض نے فرمایا کہ عبد الله صنابحی صحابی ہیں اور ابوعبد الله صنابحی تابعی ہیں،یہاں غالبا ًتابعی مرادہیں
۲
؎سُبْحَانَ اللّٰهِ !کیا پیارا کلمہ ہے یعنی بیمار ہوں مگر رب سے غافل نہیں،مصیبت میں گرفتارہوں معصیت سے آزاد، الله کے پیارے معصیت پرمصیبت کو ترجیح دیتے ہیں،یوسف علیہ السلام نے جیل جانا منظور کیا زلیخا کی بات نہ مانی،رب فرماتا ہے: "قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ"الایہ۔اس میں قیامت تک بیماروں کوتعلیم ہے کہ بیماری میں بجائے ہائے وائے کرنے کے اس قسم کے کلمات کہا کریں،رب کی بھیجی بیماری بھی نعمت ہے۔۳؎کیونکہ اس کے لیے کئی کفارے جمع ہوگئے:بیماری،اس میں صبر،پھر رب کا شکر،پھرگزشتہ گناہوں سے توبہ،پھرموت کی تیاری،دنیا سے نفرت،قبر اور وہاں کی وحشت کا خوف،یہ ساری چیزیں گناہوں کے مستقل کفارے ہیں جوبفضلہٖ تعالٰیمؤمن بیمارکو حاصل ہوتےہیں۔خیال رہے کہ یہاں گناہوں کے مٹنے سے مرادصغیرہ گناہوں کی معافی ہے،حقوق شریعت کے ہوں یا بندوں کے وہ بغیر اداکئے معاف نہیں ہوتے ہیں۔بیمارکو چاہیے کہ قرض مظالم وغیرہ جلدی اداکرے کیونکہ بیماری موت کا پیغام ہوتی ہے اگلے گھر میں پہنچنے سے پہلے اس کو صاف کرلو۔۴؎یعنی جتنی نیکیاں یہ بندہ تندرستی میں کرتا تھا اور اب بیماری میں نہ کرسکا اس کے نامۂ اعمال میں وہ ساری نیکیاں لکھے جاؤ گویا رب کی طرف سے کمزور بندے کی یہ پنشن ہوتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1579