Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1588

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ ك قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “إِذَا دَخَلْتَ عَلیٰ مَرِيضٍ فَمُرْهُ يَدْعُو لَكَ فَإِنَّ دُعَاءَهٗ كَدُعَاءِ الْمَلَائِكَةِ” . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

وعن عمر بن الخطاب قال ك قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “إذا دخلت علی مريض فمره يدعو لك فإن دعاءه كدعاء الملائكة” . رواه ابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم کسی بیمار کے پاس جاؤ تو اسے اپنے لیئے دعا کے لیئے کہو کہ اس کی دعا فرشتوں کی دعا کی طرح ہے ۱∞؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎کیونکہ بیمار بیماری کی وجہ سے گناہوں سے صاف ہوچکا ہے،نیز وہ اس حالت میں ہر وقت الله ہی الله کرتا رہتا ہے لہذا وہ فرشتوں کی طرح ہے،نیز وہ بیماری میں بے قرار بے چین ہے، الله تعالٰی بے چینوں کی جلدسنتاہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَیَکْشِفُ السُّوۡٓءَصوفیاء فرماتے ہیں کہ یا خود بے چین ہوکر دعا مانگو یابے چینوں سے دعا کراؤ خواہ بیماری سے بے چین ہوں یا خوف الٰہی سے،یہ حدیث ان کی اصل ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1588