Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1534

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَن جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أِشْتَكَيْتَ؟ فَقَالَ: “نَعَمْ” . قَالَ: بِسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ مِنْ شر كُلِّ نَفْسٍ أَوْ عَيْنِ حَاسِدٍ اللهُ يَشْفِيكَ بِسْمِ اللهِ أَرْقِيْكَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي سعيد الخدري أن جبريل أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا محمد أشتكيت؟ فقال: “نعم” . قال: بسم الله أرقيك من كل شيء يؤذيك من شر كل نفس أو عين حاسد الله يشفيك بسم الله أرقيك. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے کہ جبرئیل امین نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں آئے عر ض کیا اے محمد مصطفے! کیا آپ بیمار ہیں ۱∞؎فرمایا ہاں فرمایا میں آپ پر الله کے نام سے افسوں کرتا ہوں موذی چیز سے،ہرنفس کی شرارت سے،حسد والی آنکھ سے الله تمہیں شفا دے الله کے نام سے افسوں کرتا ہوں۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت جبریل خود نہ آئے تھے بلکہ رب نے بھیجا تھا،یہ مزاج پرسی رب کی طرف سے تھی،قرآن کریم فرماتا ہے:"وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَاس سے حضورصلی الله علیہ وسلم کی محبوبیت کا پتہ لگا کہ رب ان کی مزاج پرسی کرے اور رب ہی جبریل کو بھیج کر ان پر دم کرائے۔شعر
سربالیں انہیں رحمت کی ادا لائی ہے
حال بگڑا ہے تو بیمار کی بن آئی ہے
۲
؎یہاں افسوں جادو کے معنی میں نہیں کہ فرشتے اورحضورصلی الله علیہ وسلم کی بارگاہ اس سے پاک ہے بلکہ دم جائز منتر یا اسلامی ٹوٹکا مراد ہیں۔اس سےمعلوم ہوتا ہے کہ حسدونظر بدبھی بڑی آفتیں ہیں الله محفوظ رکھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1534