Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1540

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَ عَنْهَا قَالَتْ: مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي فَلَا أَكْرَهٗ شِدَّةَ الْمَوْتِ لِأَحَدٍ أَبَدًا بَعْدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

و عنها قالت: مات النبي صلى الله عليه وسلم بين حاقنتي وذاقنتي فلا أكره شدة الموت لأحد أبدا بعد النبي صلى الله عليه وسلم . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے میرے سینے اور گلے کے درمیان وفات پائی ۱∞؎تو میں حضورصلی الله علیہ وسلم کے بعدکسی کے لیئے سختی موت کوکبھی ناپسندنہیں کرتی ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ حضورصلی الله علیہ وسلم کا جسم شریف آپ کے جسم پر تھا،حضورصلی الله علیہ وسلم کی پیٹھ آپ کے سینہ پر اور سر مبارک گلے کے پاس۔سُبْحَانَ اللّٰهِ !غار ثور میں صدیق اکبر کو یہ شرف حاصل ہوا کہ حضورصلی الله علیہ وسلم کا سر مبارک آپ کے زانو پر تھا اور بوقت وفات اس طیبہ،طاہرہ،عفیفہ،صدیقہ کو یہ عزت ملی،قرآن کی رحل بھی عزت والی ہے،ان حضرات کے جسم قرآن والے کی رحل ہیں،ان کی عزتیں قیامت میں دیکھنا۔۲؎یعنی پہلے میرا یہ خیال تھا کہ نزع کی تکلیف گناہوں کی زیادتی سے ہوتی ہے اور موت کی آسانی رب کی نعمت ہے مگر جب سے میں نے حضورصلی الله علیہ وسلم کی شدت نزع دیکھی تب سے یہ دونوں خیال جاتے رہے۔خیال رہے کہ الله تعالٰی نے بیماریوں اور وفات کی تکلیفوں کو حضور انورصلی الله علیہ وسلم پر اس لیے زیادہ کیا کہ قیامت تک آپ کے مصیبت زدہ امتی آپ کے ان حالات کو سن کرتسلی پائیں۔مبارک ہیں وہ رسول جن کی بیماری بھی تبلیغ اور امت کے لیے ذریعۂ رحمت ہے صلی الله علیہ وسلم۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1540