Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1531

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ إِذَا اشْتَكَى الإِنْسَانُ الشَّيْءَ مِنْهُ أَوْ كَانَتْ بِهٖ قَرْحَةٌ أَوْ جُرْحٌ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُصْبُعِهٖ: “بِسْمِ اللهِ تُرْبَةُ أَرْضِنَا بِرِيقَةِ بَعْضِنَا لِيُشْفٰى سَقِيمُنَا بِإِذن رَبِّنَا”(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

و عنها قالت: كان إذا اشتكى الإنسان الشيء منه أو كانت به قرحة أو جرح قال النبي صلى الله عليه وسلم بأصبعه: “بسم الله تربة أرضنا بريقة بعضنا ليشفى سقيمنا بإذن ربنا”(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ جب کسی شخص کا کچھ دکھتا یا اسے پھوڑاپھنسی اور زخم ہوتا تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم اپنی انگلی کے ساتھ یوں فرماتےبسم اللهہماری زمین کی مٹی ہمارے بعض کا تھوک ۱∞؎ہمارے بیمارکو ہمارے رب کے حکم سے شفا دیتاہے۔(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اولًا آپ مرض کی جگہ انگلی رکھتے پھر انگلی پر کچھ لعاب شریف لگاکر مٹی لگاتے،پھر اس کا لیپ مرض کی جگہ کر دیتے اور یہ فرماتے جاتے کہبفضلہٖ تعالٰیہمارا لعاب اور مدینہ کی مٹی شفاہے۔اس سے چند مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ بیماری پر ٹوٹکے اور منترجائز ہیں بشرطیکہ اس کے الفاظ کفریہ نہ ہوں اورکوئی کام حرام نہ ہو،اس کی اصل یہ حدیث بھی ہے اور وہ بھی کہ نظر بدمیں نظر والے کے ہاتھ پاؤں کو دھلاکر بیمارکو چھینٹا مار دو،شامی نےنظر اور جادو دفع کرنے کے بہت ٹوٹکے بیان فرمائے ہیں۔دوسرے یہ کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کا لعاب شریف شفا ہے،بعض صوفیاء دم کرتے وقت کچھ لعاب بھی ڈال دیتے ہیں،اس کی اصل یہ حدیث ہے۔تیسرے یہ کہ مدینہ پاک کی مٹی شفا ہے وہاں کی خاک کو جو خاک شفا کہا جاتا ہے،اس کی اصل یہ حدیث ہے،مرقاۃ میں فرمایا کہ وطن کی خاک بھی شفا ہوتی ہے اگر کوئی مسافر اپنے وطن کی مٹی پردیس لے جائے جس میں تھوڑی پینے کے گھڑے میں ڈال دیا کرے تواِنْ شَاءَاللّٰهُوہاں کا پانی نقصان نہ دے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1531