Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1555

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنِ اشْتَكٰى مِنْكُمْ شَيْئًا أَوِ اشْتَكَاهُ أَخٌ لَهٗ فَلْيَقُلْ: رَبُّنَا اللهُ الَّذِي فِي السَّمَاءِ تَقَدَّسَ اسْمُكَ أَمْرُكَ فِي السَّمَاء وَالْأَرْض كَمَا رَحْمَتُكَ فِي السَّمَاءِ فَاجْعَلْ رَحْمَتَكَ فِي الْأَرْضِ اغْفِرْ لَنَا حُوبَنَا وَخَطَايَانَا أَنْتَ رَبُّ الطَّيِبِينَ أَنْزِلْ رَحْمَةً مِنْ رَحْمَتِكَ وَشِفَاءً مِنْ شِفَائِكَ عَلیٰ هٰذَا الْوَجَعِ. فَيَبْرَأُ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن أبي الدرداء قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " من اشتكى منكم شيئا أو اشتكاه أخ له فليقل: ربنا الله الذي في السماء تقدس اسمك أمرك في السماء والأرض كما رحمتك في السماء فاجعل رحمتك في الأرض اغفر لنا حوبنا وخطايانا أنت رب الطيبين أنزل رحمة من رحمتك وشفاء من شفائك علی هذا الوجع. فيبرأ ". رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ تم میں جو کچھ بیمار ہویا اس کا بھائی بیماری کی شکایت کرے تو کہے ہمارا رب وہ الله ہے جو آسمان میں ہے ۱∞؎تیرا نام پاک ہے تیرا حکم آسمان و زمین میں ہے جیسے تیری رحمت آسمان میں ہےیوں ہی اپنی رحمت زمین میں کر۲؎ہمارے گناہ و خطائیں بخش دے تو پاکوں کا رب ہے۳؎ہم پر اپنی رحمتوں سے کوئی رحمت اتار اور اپنی شفا میں سے شفا اس درد پر اتارتو وہ اچھا ہوجائے گا۔(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی الله کی بادشاہت وحکومت آسمان میں ہے کیونکہ الله تعالٰی آسمان یا زمین میں ہونے سے پاک ہے۔آسمان وہ جگہ ہے جہاں کسی کی ظاہری حکومت بھی نہیں،نیز وہاں سارے معصوم ہی رہتے ہیں اسی لیے اکثر رب تعالٰی کو آسمان کی طرف نسبت کرتے ہیں۔۲؎یعنی صدقہ ان فرشتوں کا جنہیں تونے بیماری،آزاری سےمحفوظ رکھا ہے،اس بیمار کو شفاء دے۔اس سے معلوم ہوا کہ نیک مخلوق کے حوالے سے دعاکرنا سنت سے ثابت ہے۔۳؎الله کی ربوبیت عامّہ ساری مخلوق کے لیے ہے مگر ربوبیت خاصّہ صرف پاک لوگوں کے لیےیعنی جسمانی روزی سب کو دیتا ہے،کھانا پینا وغیرہ،روحانی روزی،مغفرت،عرفان و ایمان صرف پاکوں کو،یہی حضورصلی الله علیہ وسلم کی رحمت کا حال ہے کہ آپرَحْمَۃ للعٰلمِینبھی ہیں اوربِالْمُؤمِنِیْنَ رَؤُفٌ الرَّحِیْمبھی لہذا حدیث واضح ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1555