Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1537

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْہُ وَأبي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “مَا يُصِيبُ الِمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا وَصَبٍ وَلَا هَمٍّ وَلَا حُزْنٍ وَلَا أَذًى وَلَا غَمٍّ حَتَّى الشَّوْكَةَ يُشَاكُهَا إِلَّا كَفَّرَ اللهُ بهَا خَطَايَاهٗ”(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعنہ وأبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: “ما يصيب المسلم من نصب ولا وصب ولا هم ولا حزن ولا أذى ولا غم حتى الشوكة يشاكها إلا كفر الله بها خطاياه”(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے اورحضرت ابوسعید سے وہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں کہ مسلمان کو تکلیف بیماری غم و رنج ایذائےغم حتی کہ کانٹا جو اسے لگے نہیں پہنچتا مگر الله اس کی برکت سے خطائیں مٹا دیتا ہے ۱∞؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اذیاورغمہم معنی ہیں،کبھی ان دونوں میں یہ فرق کیاجاتاہے کہاذیوہ ہے جوکسی کی طرف سے انسان کو پہنچے اورغم میں یہ قید نہیں،نیزحزنمعمولی غم کو بھی کہتے ہیں اورغم سخت کو یعنی وہ غم جو انسان کو قریبًا بے ہوش کردے،بعض نے فرمایا کہ آنے والے خطرے پر تکلیف کا نامھمہے اورگزشتہ پرغم و حزن۔خلاصۂ حدیث یہ ہے کہ صابرمسلمان کی تھوڑی تکلیف بھی اس کے گناہوں کا کفارہ ہے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ اگرکسی کو عبادتوں میں لذت نہ آئے،اس پر اسےغم ہو یہ بھی گناہوں کی معافی کا باعث ہے،عبادات کی لذت پانے والا لذت کے لیے بھی عبادت کرتا ہے مگر اس سے محروم خالص الله کیلئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1537