Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1554

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْه أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَانَ يُعَلِّمُهُمْ مِنَ الْحُمّٰى وَمِنَ الأَوْجَاعِ كُلِّهَا أَن يَقُولُوا: “بِسْمِ اللهِ الْكَبِيرِ أَعُوذُ بِاللهِ الْعَظِيمِ مِنْ شَرِّ كُلِّ عِرْقٍ نَعَّارِ وَمِنْ شَرِّ حَرِّ النَّارِ” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا يُعْرَفُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ يُضَعَّفُ فِي الحَدِيْثِ

وعنه أن النبي صلى الله عليه وسلم : كان يعلمهم من الحمى ومن الأوجاع كلها أن يقولوا: “بسم الله الكبير أعوذ بالله العظيم من شر كل عرق نعار ومن شر حر النار” . رواه الترمذي وقال هذا حديث غريب لا يعرف إلا من حديث إبراهيم بن إسماعيل وهو يضعف في الحديث

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم انہیں بخار اور تمام دردوں کی یہ دعا سکھاتے تھے کہ کہیں کبریائی والے الله کے نام سے میں ہرخون سے بھری رگ اور آگ کی تپش کی شرارت سے عظمت والے رب کی پناہ مانگتا ہوں ۱∞؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے،صرف ابراہیم ابن اسمعیل کی حدیث سے پہچانی گئی ہے اور وہ حدیث میں ضعیف مانے جاتے ہیں ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎چونکہ بخار میں آگ کی سی تپش ہوتی ہے اور اکثر درد رگ کے جوش اورخون کے دباؤ سے ہوتے،اس لیے خصوصیت سے ان دونوں کی شر سے پناہ مانگی،یہاں شر سے مراد تکلیف ہے،راحت کا مقابل،یہ شرخیر کے مقابل نہیں،مؤمن کی بیماریبفضلہٖ تعالٰیخیر ہوتی ہے،یعنی باعث ثواب لہذا حدیث پر اعتراض نہیں۔۲؎چنانچہ امام قرطُبی نے فرمایا کہ وہ متروک الحدیث ہیں مگر حاکم وبیہقی نے یہ حدیث بروایت صحیح نقل کی۔بہرحال ترمذی کو ضعیف ہوکرملی مگر ان محدثین کوصحیح ملی،اگر ضعیف بھی ہوتی تو فضائل اعمال میں قبول تھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1554