Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5230

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي خَلَّادٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِذَا رَأَيْتُمُ الْعَبْدَ يُعْطَى زُهْدًا فِي الدُّنْيَا وَقِلَّةَ مَنْطِقٍ فَاقْتَرِبُوا مِنْهُ؛ فَإِنَّهُ يُلَقَّى الْحِكْمَةَ". رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

وعن أبي هريرة وأبي خلاد: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "إذا رأيتم العبد يعطى زهدا في الدنيا وقلة منطق فاقتربوا منه؛ فإنه يلقى الحكمة". رواهما البيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابو خلاد سے ۱؎کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم کسی بندے کو دیکھو کہ اسے دنیا سے بے رغبتی اور کم بولنے کی نعمتیں دی گئیں ہیں۲؎تو اس سے قرب حاصل کرو کیونکہ اسے حکمت دی جاتی ہے۳؎(بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎ابوخلاد کے نام میں اختلاف ہے بعض نے فرمایا کہ ان کا نام عبدالرحمن ہے(الاصابہ)حق یہ ہے کہ ابوخلاد صحابی ہیں۔
۲
؎یعنی وہ دنیاوی باتیں کم کرتا ہے ذکر الله درود شریف وغیرہ اس میں داخل نہیں کہ خدا کرے ان سے زبان ہر وقت تر رہے۔
۳
؎حکمت سے مراد علم باعمل ہے، بعض نے فرمایا شریعت و طریقت کا اجتماع حکمت ہے۔حدیث شریف میں ہے کہ جو شخص چالیس دن اخلاص اختیار کرے تو اس کی زبان سے حکمت کے چشمے جاری ہوتے ہیں ان کی صحبت اکسیر ہے، رب تعالٰی فرماتا ہے:"کُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ"حقیقت میں ایسا مسلمان نائب پیغمبر وارث رسول ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5230