Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5167

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَتْبَعُ الْمَيِّتَ ثَلَاثَةٌ: فَيَرْجِعُ اثْنَانِ وَيَبْقَى مَعَهُ وَاحِدٌ، يَتْبَعُهُ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَعَمَلُهُ، فَيَرْجِعُ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَيَبْقَى عَمَلُهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أنس قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يتبع الميت ثلاثة: فيرجع اثنان ويبقى معه واحد، يتبعه أهله وماله وعمله، فيرجع أهله وماله ويبقى عمله". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں ۱؎دو۲ تو لوٹ آتی ہیں اور ایک اس کے ساتھ رہ جاتی ہے اس کے ساتھ اس کے گھر والے ہیں اس کا مال اس کے اعمال جاتے ہیں۲؎تو اس کے گھر والے اور مال لوٹ جاتے ہیں اور اس کے عمل ساتھ رہ جاتے ہیں ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی بعد مرے قبر تک تین چیزیں ساتھ جاتی ہیں: دو بے وفا جو مردے کو چھوڑ کر لوٹ آتی ہیں ایک وفادار جو ساتھ رہتی ہے۔
۲
؎گھر والوں سے مراد بال بچے،عزیز و اقارب،دوست آشنا جو دفن و نماز میں شرکت کرنے جاتے ہیں۔مال سے مراد اس کے غلام باندیاں ہیں۔اعمال سے مراد سارے اچھے برے عمل ہیں جو میت نے اپنی زندگی میں کیے۔اعمال کے ساتھ جانے سے مراد ا ن کا میت کے ساتھ تعلق ہے جو مرے بعد قائم رہتا ہے لہذا حدیث شریف واضح ہے۔
۳
؎نیک اعمال جو قبول ہوگئے ہمیشہ اس کے ساتھ رہتے ہیں برے اعمال شفاعت بخشش یا سزا بھگتنے تک چمٹے رہتے ہیں،ان چیزوں کے بعد پیچھا چھوڑتے ہیں۔جس پر مولٰی رحم کرے حضور جسے سنبھال لیں اس کا بیڑا پار ہے۔قبر اعمال کا صندوق ہے یا دوزخ کی بھٹی ہے یا جنت کی کیاری اس لیے بزرگوں کی قبر کو روضہ کہتے ہیں یعنی جنت کا باغ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5167