Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5187

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا أَنَا عَمِلْتُهُ أَحَبَّنِي اللَّهُ وَأَحَبَّنِي النَّاسُ، قَالَ: "اِزْهَدْ فِي الدُّنْيَا يُحِبَّكَ اللَّهُ، وَازْهَدْ فِيمَا عِنْدَ النَّاسِ يُحِبَّكَ النَّاسُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْن مَاجَهْ.

وعن سهل بن سعد قال: جاء رجل فقال: يا رسول الله! دلني على عمل إذا أنا عملته أحبني الله وأحبني الناس، قال: "ازهد في الدنيا يحبك الله، وازهد فيما عند الناس يحبك الناس". رواه الترمذي وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص آیا تو بولا یارسول الله صلی الله علیہ وسلم مجھے ایسے کام پر رہبری کریں کہ جب میں وہ کروں تو مجھ سے ابھی محبت کرے اور لوگ بھی محبت کریں ۱؎فرمایا دنیا میں بے رغبت رہو تم سے امحبت کرے گا ۲؎اور لوگوں کی پاس کی چیزوں سے بے رغبت رہو تم سے لوگ محبت کریں گے ۳؎(ترمذی، ابن ماجہ)۴؎

شرح حدیث

۱∞؎معلوم ہوا کہ اکے بندوں کی محبت جو قدرتی طور سے ہو اکی رحمت ہے،محبت خلق محبت خالق کی علامت ہےانتم شھداء اﷲ فی الارضلہذا لوگوں کی محبت حاصل کرنے کی کوشش کرنا ممنوع نہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی تھی کہ مولٰیواجعل لی لسان صدق فی الاخرینآئندہ نسلوں میں میرا ذکر خیر جاری فرما لہذا ان صاحب کا یہ سوال بالکل برحق ہے۔
۲
؎دنیا سے بے رغبتی کے رکن تین ہیں:محبت دنیا سے علیحدگی، زائد دنیا سے پرہیز،آخرت کی تیاری،ایسے شخص سے اتعالٰی محبت اس لیے کرتا ہے کہ وہ اکے دشمن سے محبت نہیں کرتا دشمن کا دشمن بھی دوست ہوتا ہے۔(مرقات)صوفیاء فرماتے ہیں کہ آگ کے ڈر سے دنیا میں رہتے ہوئے اس سے الگ رہنا زہد ہے۔کسی صوفی نے کیا خوب کہا شعروما الزھد الا فی انقطاع الخلائق وما الحق الا فی وجود الحقائق
وما الحب الاحب من کان قلبہ عن الخلق مشغولا برب الخلائق
نیز جو دنیا سے بے رغبت ہوگا وہ گناہ کم کرے گا نیکیاں زیادہ اور ایسا بندہ ضرور الله تعالٰی کوپیارا ہے۔
۳
؎دنیا کا دستور ہے کہ جو اس کی طرف دوڑتا ہے تو وہ اس سے بھاگتی ہے اور جو اس سے بے نیاز ہوتا ہے تو وہ اس کی طرف آتی ہے۔جو شخص لوگوں سے تمنا رکھے گا تو خواہ مخواہ ان کی خوشامد کرے گا اور لوگ اس سے نفرت کریں گے اور جو لوگوں سے بے نیاز ہوگا تو لوگ خوامخواہ اس کی طرف آئیں گے۔شعر
آس بگذا ر بادشاہی کن گردن بے طمع بلند بود
۴
؎یہاں صاحب مشکوۃ سے یا کاتب سے غلطی ہوئی کہ ترمذی کا ذکر بھی کردیا یہ حدیث صرف ابن ماجہ میں مذکور ہے ترمذی میں نہیں اور زہد فی الدنیا سے آخر تک ابن ماجہ،طبرانی،حاکم،بیہقی نے بروایت سہل ابن سعد روایت کی۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5187