Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5206

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ مُرْسَلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: مَا أُوحِيَ إِلَيَّ أَنْ أَجْمَعَ الْمَالَ وَأَكُونَ مِنَ التَّاجِرِينَ،وَلَكِنْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنْ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ ، رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ" وَأَبُو نُعَيْمٍ فِي "الْحِلْية" عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ.

وعن جبير بن نفير مرسلا قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: ما أوحي إلي أن أجمع المال وأكون من التاجرين،ولكن أوحي إلي أن فسبح بحمد ربك وكن من الساجدين واعبد ربك حتى يأتيك اليقين ، رواه في "شرح السنة" وأبو نعيم في "الحلية" عن أبي مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جبیر ابن نفیر سے ارسالًا ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله نے کہ مجھے یہ وحی نہیں کی گئی کہ مال جمع کروں اور تاجروں میں سے ہو رہوں۲؎لیکن مجھے یہ وحی کی گئی ہے کہ اپنے رب کی تسبیح بولوں اور سجدہ کرنے والوں میں ہوؤ اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو حتی کہ تم کو موت آجائے۳؎(شرح سنہ ابو نعیم)حلیہ بروایت ابی مسلم۴؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ قبیلہ بنی حضرم سے ہیں،آپ نے حضور صلی الله علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ پایا مگر خلافت صدیقی میں ایمان لائے، ۷۵ھ؁∞ میں آپ کی وفات ہوئی لہذا یہ حدیث مرسل ہے کہ اس میں صحابی کا ذکر نہیں۔حضرت جبیر سے جو کہ تابعی ہیں حضور صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے۔
۲
؎یعنی میری زندگی کا مقصد تجارت اور مال جمع کر نا نہیں،میری زندگی کا مقصد تبلیغ نبوت اور الله کی اطاعت ہے،اپنے پاس بقدر ضرورت کبھی مال رکھنا تجارت کرنا اسی کے تابع ہے۔لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں ہے کہ حضور صلی الله علیہ وآلہ وسلم فتح خیبر کے بعد ازواج پاک کو سال بھر کا خرچ عطا فرمادیتے تھے یا یہ کہ حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے تجارت،بکریاں چرانے کا کام کیا ہے۔ظہور نبوت کے بعد حضور صلی الله علیہ وسلم نے چیزیں خریدیں ہیں فروخت بھی کی ہیں مگر وہ سب عارضی چیزیں تھیں،حضور صلی الله علیہ وسلم کی زندگی پاک کا مقصد وہ تھا جو آگے ارشاد ہورہا ہے لہذا حضرت عثمان غنی اور دوسرے صحابہ کرام کا تجارتیں کرنا،مال جمع کرنا ممنوع نہیں تھا،اگر مال جمع نہ کیا جاوے تو زکوۃ،حج و عمرہ وغیرہ عبادتیں کیسے کی جاسکتی ہیں۔کام کرنا اور ہے کام میں مشغول ہوجانا کچھ اور۔
۳
؎اس آیت کریمہ میں موت آنے تک تسبیح،نماز اور ہر ممکن عبادات کرنے کا حکم ہے۔یقین سے مراد یقینی چیز یعنی موت ہے خدا کرے مرتے وقت تک کوئی نماز،الله کا ذکر،مسجد کی حاضری،تکبیر اولٰی،نوافل،کوئی چیز نہ چھوٹے۔حضرات صوفیاء کے نزدیک یقین سے مراد عین الیقین یا حق القین ہے،بعض مفسرین نے فرمایا کہ تسبیح و نماز تو عبادات ہیں ا وروَاعْبُدْ رَبَّكَمیں عبودیت کا حکم ہے۔عبادت اور عبودیت میں بڑا فرق ہے، عبادت آسان ہے عبودیت مشکل ہے،انصیب کرے۔
۴
؎ابو مسلم خولانی بڑے زاہد،عابد و عالم تھے اور تابعین میں سے ہیں،حضرت ابوبکر صدیق و عمر فاروق سے ملاقات کی ہے، ۶۲؁ باسٹھ ہجری میں وفات پائی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5206