Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5215

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: ارْتَحَلَتِ الدُّنْيَا مُدْبِرَةً وَارْتَحَلَتِ الآخِرَةُ مُقْبِلَةً، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بَنُونَ، فَكُونُوا مِنْ أَبْنَاءِ الآخِرَةِ وَلَا تَكُونُوا مِنْ أَبْنَاءِ الدُّنْيَا، فَإِنَّ الْيَوْمَ عَمَلٌ وَلَا حِسَابَ، وَغَدًا حِسَابٌ وَلَا عَمَلَ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ فِي تَرْجَمَةِ بَابٍ.

وعن علي قال: ارتحلت الدنيا مدبرة وارتحلت الآخرة مقبلة، ولكل واحدة منهما بنون، فكونوا من أبناء الآخرة ولا تكونوا من أبناء الدنيا، فإن اليوم عمل ولا حساب، وغدا حساب ولا عمل. رواه البخاري في ترجمة باب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ دنیا کوچ کرکے پیٹھ پھیررہی ہے اور آخرت کوچ کرکے سامنے آرہی ہے ۱؎ان دونوں میں سے ہر ایک کی اولاد ہے تو تم آخرت کی اولاد بنو اور دنیا کی اولاد نہ بنو ۲؎کیونکہ آج عمل ہے حساب نہیں اور کل حساب ہوگا عمل نہ ہوگا ۳؎(بخاری ایک باب کا عنوان)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حضرت علی رضی الله تعالٰی عنہ کا اپنا قول ہے جو حضورصلی الله علیہ وسلم کے فرمان عالی کے بالکل مطابق ہے۔اسے کہتے ہیں توارد یعنی دنیا اور آخرت دونوں ہی حرکت میں ہیں مگر دنیا جارہی ہے آخرت آرہی ہے،دنیا جا کر نہ آئے گی آخرت آکر نہ جائے گی۔
۲
؎اس کے معنی اور مطلب ابھی پہلے عرض کیے گئے تم دنیا کے نہ بنو بلکہ دنیا تمہاری بنے،جو اکا ہوجاتا ہے دنیا اس کی ہوجاتی ہے۔
۳
؎اس کے معنی ابھی عرض کیے گئے کہ دنیا میں رب تعالٰی نہ تو ایمان کا حساب لیتا ہے نہ اعمال کا۔بعد موت کوئی شخص جزا والا عمل نہیں کرسکے گا اگرچہ بعض مقبول بندے قبر میں نماز و تلاوت کرتے ہیں مگر اس پر جزا نہیں اسی لیے زندے انہیں ثواب بخشتے ہیں کہ زندگی کے اعمال کا ثواب ہے ،اب وہ ثواب خواہ عامل ہی رکھے یا کسی کو بخش دے اسے اختیار ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5215