Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5179

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَنْ أَحَبَّ دُنْيَاهُ أَضَرَّ بِآخِرَتِهِ، وَمَنْ أَحَبَّ آخِرتهُ أَضَرَّ بِدُنْيَاهُ، فآثِرُوا مَا يَبْقَى عَلَى مَا يَفْنَى". رَوَاهُ أَحْمدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

وعن أبي موسى قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "من أحب دنياه أضر بآخرته، ومن أحب آخرته أضر بدنياه، فآثروا ما يبقى على ما يفنى". رواه أحمد والبيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو دنیا سے محبت کرتا ہے وہ اپنی آخرت کو نقصان پہنچالیتا ہے اور جو اپنی آخرت سے محبت رکھتا ہے وہ اپنی دنیا کو نقصان پہنچالیتا ہے تو باقی کو فنا ہونے والی پر اختیار کرو ۱؎(احمد،بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ دنیا و آخرت دونوں کی محبت ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتی دنیا آخرت کی ضد ہے،ہاں دنیا سے محبت کرنا آخرت اور رضا الٰہی کے لیے بہت ہی بہتر ہے۔مال سے محبت،بچوں کی پرورش،عزیزوں کے حقوق ادا کرنے،حج و قربانی اور زکوۃ ادا کرنے کے لیے بہرحال اچھا ہے۔امام غزالی رحمۃ الله علیہ فرماتے ہیں علم عقل و ایمان کا ادنی درجہ یہ ہے کہ انسان جان لے کہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی رہنے والی،اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دنیا میں رہ کر آخرت کی تیاری کرے دنیا میں منہمک نہ ہوجائے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5179