باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5227
دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 5155
- 5156
- 5157
- 5158
- 5159
- 5160
- 5161
- 5162
- 5163
- 5164
- 5165
- 5166
- 5167
- 5168
- 5169
- 5170
- 5171
- 5172
- 5173
- 5174
- 5175
- 5176
- 5177
- 5178
- 5179
- 5180
- 5181
- 5182
- 5183
- 5184
- 5185
- 5186
- 5187
- 5188
- 5189
- 5190
- 5191
- 5192
- 5193
- 5194
- 5195
- 5196
- 5197
- 5198
- 5199
- 5200
- 5201
- 5202
- 5203
- 5204
- 5205
- 5206
- 5207
- 5208
- 5209
- 5210
- 5211
- 5212
- 5213
- 5214
- 5215
- 5216
- 5217
- 5218
- 5219
- 5220
- 5221
- 5222
- 5223
- 5224
- 5225
- 5226
- 5227
- 5228
- 5229
- 5230
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- إِلَى الْيَمَنِ خَرَجَ مَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يُوصِيهِ، وَمُعَاذٌ رَاكِبٌ وَرَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَمْشِي تَحْتَ رَاحِلَتِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: "يَا مُعَاذُ! إِنَّكَ عَسَى أَنْ لَا تَلْقَانِي بَعْدَ عَامِي هَذَا، وَلَعَلَّكَ أَنْ تَمُرَّ بِمَسْجدِي هَذَا وَقَبْرِي"، فَبَكَى مُعَاذٌ جَشَعًا لِفِرَاقِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-،ثُمَّ الْتَفَتَ فَأَقْبَلَ بِوَجْهِهِ نَحْوَ الْمَدِينَةِ فَقَالَ: "إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِيَ الْمُتَّقُونَ مَنْ كَانُوا وَحَيْثُ كَانُوا". رَوَى الأَحَادِيث الأَرْبَعَةَ أَحْمَدُ.
وعن معاذ بن جبل قال: لما بعثه رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إلى اليمن خرج معه رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يوصيه، ومعاذ راكب ورسول الله -صلى الله عليه وسلم- يمشي تحت راحلته، فلما فرغ قال: "يا معاذ! إنك عسى أن لا تلقاني بعد عامي هذا، ولعلك أن تمر بمسجدي هذا وقبري"، فبكى معاذ جشعا لفراق رسول الله -صلى الله عليه وسلم-،ثم التفت فأقبل بوجهه نحو المدينة فقال: "إن أولى الناس بي المتقون من كانوا وحيث كانوا". روى الأحاديث الأربعة أحمد.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرمایا جب انہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے یمن کی طرف بھیجا تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم ان کے ساتھ تشریف لے گئے ۱؎آپ انہیں وصیت فرمارہے تھے اور جناب معاذ سوار تھے اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم پیدل چل رہے تھے ۲؎ان کے کجاوہ کے نیچے تو جب فارغ ہوئے فرمایا اے معاذ ! ممکن ہے کہ تم اس سال کے بعد مجھے نہ ملو غالبًا۳؎تم اب میری مسجد اور میری قبر پر گزرو ۴؎تو جناب معاذ رضی اللہ عنہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی جدائی سے گھبرا کر بہت روئے ۵؎پھر حضور واپس ہوئے تو اپنا چہرہ پاک مدینہ کی طرف کیا ۶؎پھر فرمایا کہ لوگوں میں مجھ سے قریب تر لوگ پرہیزگار ہیں جہاں بھی ہوں۷؎ان چاروں حدیثوں کو احمد نے روایت کیا۔
شرح حدیث
۱∞؎حضرت معاذ کو یمن کا حاکم اعلٰی بنا کر بھیجا تو حسب معمول انہیں پہنچانے کے لیے ثنیۃ الوداع تک تشریف لے گئے اس طرح کہ حضرت معاذ حضور صلی الله علیہ وسلم کے حکم سے سوار تھے اور حضور انور پیدل تھے۔
۲؎سنت یہ ہی ہے کہ جس کو وداع کرو اسے کچھ دور پہنچانے کے لیے ساتھ پیدل جاؤ۔میں نے اس جگہ کی زیارت کی ہے جہاں تک حضور پہنچایا کرتے تھے،اس عمل شریف میں اپنے مقرر کردہ حکام کا احترام فرمانا ہے۔
۳؎یہاںلعلشک کے لیے نہیں بلکہ یقین کے لیے ہے جیسے رب تعالٰی فرماتاہے:"لَعَلَّ اللہَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِکَ اَمْرًا"یا فرماتاہے: "لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ"۔
۴؎وقبریمیں واؤ بمعنیمعہے یعنی میری قبر پر آؤگے جو اسی مسجد میں ہوگی۔(مرقات)اس فرمان عالی میں پانچ غیبی خبریں ہیں: ایک یہ کہ ہم عنقریب وفات پاجائیں گے،دوسرے یہ کہ ہماری وفات مدینہ منورہ میں ہوگی،تیسرے یہ کہ ہماری قبر انور مسجد نبوی شریف میں ہوگی ،چوتھے یہ کہ حضرت معاذ ہماری زندگی میں وفات نہ پائیں گے بلکہ ہمارے بعد ،پانچویں یہ کہ جناب معاذ ہماری قبر پر زیارت کرنے آئیں گے،یہ پانچوں باتیں علوم خمسہ سے ہیں یہ ہے ہمارے نبی کا علم۔
۵؎یہ خیال کرکے روئےکہ میں حضور انور سے اب ہمیشہ کے لیے الوداع ہورہا ہوں۔آج مدینہ منورہ سے چلتے وقت جو حالت حجاج کی ہوتی ہے وہ بیان نہیں ہوسکتی۔شعر
بدن سے جان نکلتی ہے آہ سینے سے تیرے فدائی نکلتےہیں جب مدینے سے
روضہ اچھا،زائر اچھے،اچھی راتیں اچھے دن سب کچھ اچھا،ایک رخصت کی گھڑی اچھی نہیں
حضرت معاذ تو آج مدینہ والے محبوب صلی الله علیہ وسلم سے ہمیشہ کے لیے الوداع ہورہے ہیں۔
۶؎یعنی میں آگے روانہ ہوا حضور انور واپس مدینہ پاک کی طرف پھرے تو بلند آواز سے یہ فرمایا جو میں نے بھی اپنے کانوں سے سن لیا کیونکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہی کی تسلی کے لیے تو یہ فرمایا تھا۔
۷؎اس فرمان عالی کے چند مقصد ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ اے معاذ تم اس ظاہری فراق سے غم نہ کرو تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار کرو تو جہاں بھی ہو گے میرے پاس مجھ سے قریب ہی رہو گے۔دوسرے یہ کہ تاقیامت مسلمان تقویٰ پرہیزگاری کے ذریعہ مجھ سے قریب ہوسکیں گے زبان وطن قومیت ہم سے قریب کرنے کے لیے کافی نہیں،قرآن کے پاس اطاعت کے قدم سے آؤ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ارادات کے قدم سے پہنچو،ہم صرف مدینہ میں ہی نہیں رہتے ہم تو عاشقوں کے سینہ میں رہتے ہیں۔ تیسرے یہ کہ میرے متصل جو خلیفہ بنیں گے حضر ت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ وہ مجھ سے بہت ہی قریب ہوں گے تم ان کو دیکھ لیا کرنا ان کے رخسار میں میرا جمال دیکھو گے۔(اشعہ و مرقات)بعض حضور کے قرابت دار مکہ میں رہ کرحضور سے دور رہے جیسے ابولہب،بعض دور رہ کر حضور سے قریب رہے جیسے حضرت اویس قرنی ۔خیال رہے کہ تقویٰ بہت قسم کا ہے جیسا تقویٰ ویسا حضور انور سے قرب۔تقویٰ کے درجات اس کے اقسام و علامات ہماری تفسیر نعیمی میںھدی للمتقینکی تفسیر میں دیکھو۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5227