Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5157

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- مَرَّ بِجَدْيٍ أَسَكَّ مَيِّتٍ، قَالَ: "أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنَّ هَذَا لَهُ بِدِرْهَمٍ؟ " فَقَالُوا: مَا نُحِبُّ أَنَّهُ لَنَا بِشَيْءٍ، قَالَ: "فَوَاللَّهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذَا عَلَيْكُم". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن جابر: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- مر بجدي أسك ميت، قال: "أيكم يحب أن هذا له بدرهم؟ " فقالوا: ما نحب أنه لنا بشيء، قال: "فوالله للدنيا أهون على الله من هذا عليكم". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ایک بھیڑ کے مرے بچے پر گزرے تو فرمایا کہ تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ یہ اسے ایک درہم کے عوض ملے؟ ۱؎صحابہ نے عرض کیا ہم نہیں چاہتے کہ یہ ہمیں کسی بھی چیز کے عوض ملے تو فرمایا اکی قسم !دنیا اکو اس سے زیادہ ذلیل ہے جیسی یہ تمہارے نزدیک ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی بکری کا مردار بچہ کوئی چار آنے میں بھی نہیں خریدتا کہ اس کی کھال بے کار اور گوشت وغیرہ حرام ہے اسے کون خریدے۔
۲
؎دنیا کے معنی ابھی عرض کردیئے گئے وہ یاد رکھے جاویں۔صوفیاء کرام فرماتے ہیں کہ دنیا دار کو تمام جہان کے مرشد ہدایت نہیں دے سکتے،تارک الدنیا دیندار کو سارے شیاطین مل کر گمراہ نہیں کرسکتے،دنیا دار دینی کام بھی کرتا ہے تو دنیا کے لیے اور دیندار دنیاوی کام بھی کرتا ہے تو دین کے لیے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5157