Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5174

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الأَوْدِيِّ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- لِرَجُلٍ وَهُوَ يَعِظُهُ: "اغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ: شَبَابَكَ قَبْلَ هَرَمِكَ، وَصِحَّتَكَ قَبْلَ سَقَمِكَ، وَغِنَاكَ قَبْلَ فَقْرِكَ، وَفَرَاغَكَ قَبْلَ شُغْلِكَ، وَحَيَاتَكَ قَبْلَ مَوْتكَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مُرْسلًا.

وعن عمرو بن ميمون الأودي قال:قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- لرجل وهو يعظه: "اغتنم خمسا قبل خمس: شبابك قبل هرمك، وصحتك قبل سقمك، وغناك قبل فقرك، وفراغك قبل شغلك، وحياتك قبل موتك". رواه الترمذي مرسلا.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن میمون اودی سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایک شخص سے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت ۲؎جانو:بڑھاپے سے پہلے جوانی کو،بیماری سے پہلے تندرستی کو، فقیری سے پہلے غنا کو اور مشغولیت سے پہلے فرصت کو اور اپنی موت سے پہلے زندگی کو ۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎اود ایک قبیلہ ہے جو اود ابن صعب کی طرف منسوب ہے،عمرو ابن میمون کو بعض لوگوں نے صحابی کہا ہے مگر قوی یہ ہے کہ آپ حضور کے زمانہ میں اسلام لائے مگر زیارت نہ کرسکے،جلیل القدر تابعی ہیں لہذا یہ حدیث مرسل ہے۔(اشعہ)
۲
؎اغتنامکے معنی ہیں غنیمت حاصل کرلینا یعنی ان پانچ چیزوں سے کچھ کمائی کر لو بار بار یہ موقعہ نہیں ملتے۔
۳
؎لہذا صحت،جوانی،مالداری،فراغت اور زندگی کو رائیگاں نہ جانے دو،اس میں نیک اعمال کرلو کہ یہ نعمتیں بار بار نہیں ملتیں۔ میاں محمد صاحب فرماتے ہیں شعر
سدا نہ حسن جوانی رہندی سدا نہ صحبت یاراں سدا نہ بلبل باغاں بولے سدا نہ باغ بہاراں
باغ میں بہار اور بہار میں بلبل کی شور و پکار ہمیشہ نہیں رہتے کبھی آتے ہیں اسے غنیمت جانو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5174