Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5166

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَقُولُ الْعَبْدُ: مَالِي مَالِي، وَإِنَّ مَا لَهُ مِنْ مَالِهِ ثَلَاثٌ: مَا أَكَلَ فَأَفْنَى، أَوْ لَبِسَ فَأَبْلَى، أَوْ أَعْطَى فَاقْتَنَى،وَمَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ ذَاهِبٌ وَتَارِكُهُ لِلنَّاسِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يقول العبد: مالي مالي، وإن ما له من ماله ثلاث: ما أكل فأفنى، أو لبس فأبلى، أو أعطى فاقتنى،وما سوى ذلك فهو ذاهب وتاركه للناس". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ بندہ کہتا ہے میرا مال میرا مال ۱؎حالانکہ اس کے مال صرف تین ہیں۲؎جو کھا کر ختم کردے یا پہن کر گلا دےیا دے تو جمع کردے ۳؎جو ان کے علاوہ ہے وہ تو جانے والا ہے اور وہ اسے لوگوں کے لیے چھوڑنے والا ہے ۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی فخر و تکبر کے انداز میں لوگوں سے کہتا رہتا ہے کہ یہ میرا مکان ہے،یہ میری جائیداد ہے،یہ میرا کنواں ہے،یہ میرا فلاں مال ہے یہ برا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ یقین رکھے کہ میں اور میرا مال سب الله تعالٰی کی ملک ہے میرے پاس چند روزہ ہے عارضی ہے۔خیال رہے کہ جسے انسان اپنا مال کہے اس کا مال یعنی انجام نرا وبال ہے اور جو مال ذریعہ عبادت ہے وہ ذریعہ آمال ہے جس سے بہت امیدیں وابستہ ہیں۔
۲
؎یعنی جو مال انسان کے کام آویں وہ صرف تین ہیں ان کے علاوہ سب دوسروں کے کام آتے ہیں۔خیال رہے کہ انّمالہمیںمامو صولہ ہے اورلہاس کا صلہ اورمن مالہمیںمنبعضیت کا ہے یعنی اس کے مال میں سے وہ جو اسے مفید ہو صرف تین ہیں۔
۳
؎اتعالٰی کے بینک ہیں جہاں جمع کرنے سے بے شمار نفع ملتا ہے۔سبحان الله !کیسی نفیس تعلیم ہے۔دینے سے مراد راہِ خدا میں دینا ہے خواہ بال بچوں کو دے یا عزیزوں یا غریبوں کو بشرطیکہ یہ دینا ناموری کے لیے نہ ہو الله رسول کی خوشنودی کے لیے ہو۔
۴
؎ھوذاھبمیںھوضمیر بندے کی طرف لوٹتی ہے۔ذاھبسے مراد مرنے والا یعنی ان تین مالوں کے سوا اور مالوں کا یہ حال ہے کہ بندہ مرجاتا ہے اور وہ مال دوسروں کے لیے رہ جاتا ہے جیسے زمین باغات،مکانات،نقدی،بنک بیلنس وغیرہ۔اس فرمان عالی کا مقصد یہ ہے کہ مال میں سے ارسول کا حصہ ضرور نکالتا رہے،یہ مقصد نہیں کہ مکان جائیداد بنائے ہی نہیں،اپنے بچوں کو فقیر کرکے چھوڑے یا یہ مقصد ہے کہ مال کی محبت دل میں نہ ہو دل خاص الله رسول کے لیے ہو۔شعر
دل میں ہو یاد تیری گوشۂ تنہائی ہو پھر تو خلوت میں عجب انجمن آرائی ہو
سارا عالم ہو مگر دیدہ دل دیکھے تمہیں انجمن گرم ہو اور لذت تنہائی ہو

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5166