Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5193

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- سَمِعَ رَجُلًا يتجَشَّأُ فَقَالَ:"أَقْصِرْ مِنْ جُشَائِكَ، فَإِنَّ أَطْوَلَ النَّاسِ جُوعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَطْوَلُهُمْ شِبَعًا فِي الدُّنْيَا". رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ". وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ نَحْوَهُ.

وعن ابن عمر: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- سمع رجلا يتجشأ فقال:"أقصر من جشائك، فإن أطول الناس جوعا يوم القيامة أطولهم شبعا في الدنيا". رواه في "شرح السنة". وروى الترمذي نحوه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سےکہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایک شخص کو ڈکاریں لیتے سنا ۱؎تو فرمایا کہ اپنی ڈکاریں کم لیں۲؎کیونکہ قیامت کے دن لوگوں میں بڑا بھوکا وہ ہوگا جو دنیا میں بہت زیادہ شکم سیر ہونے والا ہو ۳؎(شرح سنہ)اور ترمذی نے اس کی مثل روایت کی۔

شرح حدیث

۱∞؎یہ صاحب حضرت وہب ابن عبدایا وہب ابن ابو جحیفہ سوائی تھے، بہت لمبی لمبی ڈکاریں لے رہے تھے کھانے سے سیر ہو کر آئے تھے۔
۲
؎یعنی تھوڑا کھایا کرو تاکہ ڈکاریں تھوڑی اور چھوٹی آویں اس کے بعد انہوں نے پیٹ بھر کر کھانا نہ کھایا۔
۳
؎یعنی دنیا میں بہت کھانے والے قیامت میں بہت کم اعمال لے کر آئیں گے کیونکہ ان کے وقت کا زیادہ حصہ تو کھانا کھانے ہضم کرنے،ہضم نہ ہونے کی صورت میں علاج معالجہ میں گزرا اعمال کب کرتے۔شیخ سعدی فرماتے ہیں شعر
اندروں از طعام خالی دار تادر و نور معرفت بینی
حریص دنیا کے اوقات دو کاموں میں خرچ ہوتے ہیں:دنیا کمانا اور کمائی دنیا کی حفاظت کرتے رہنا،اسے رب کی طرف دھیان کرنے کا وقت بہت کم ملتاہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5193