Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5171

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "من يَأْخُذُ عَنِّي هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ فَيَعْمَلُ بِهِنَّ،أَوْ يُعَلِّمُ مَنْ يَعْمَلُ بِهِنَّ؟ " قُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّه، فَأَخَذَ بِيَدِي، فَعَدَّ خَمْسًا فَقَالَ: "اتَّقِ الْمَحَارِمَ تَكُنْ أَعْبَدَ النَّاسِ، وَارْضِ بِمَا قَسَمَ اللَّهُ لَكَ تَكُنْ أَغْنَى النَّاسِ، وَأَحْسِنْ إِلَى جَارِكَ تَكُنْ مُؤْمِنًا، وَأَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ تَكُنْ مُسْلِمًا، وَلَا تُكْثِرِ الضَّحِكَ؛ فَإِنَّ كَثْرَةَ الضَّحِكِ تُمِيتُ الْقَلْبَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "من يأخذ عني هؤلاء الكلمات فيعمل بهن،أو يعلم من يعمل بهن؟ " قلت: أنا يا رسول الله، فأخذ بيدي، فعد خمسا فقال: "اتق المحارم تكن أعبد الناس، وارض بما قسم الله لك تكن أغنى الناس، وأحسن إلى جارك تكن مؤمنا، وأحب للناس ما تحب لنفسك تكن مسلما، ولا تكثر الضحك؛ فإن كثرة الضحك تميت القلب". رواه أحمد والترمذي وقال: هذا حديث غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کون ہے جو مجھ سے یہ چند باتیں لے لے پھر ان پر عمل کرے یا اسے سکھا دے جو ان پر عمل کرے ۱؎میں نے عرض کیا یارسول الله میں ہوں تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑا پھر پانچ چیزیں گنیں ۲؎فرمایا حرام چیزوں سے بچو تمام لوگوں میں بڑے عابد ہوجاؤگے ۳؎اور انے جو تمہاری قسمت کردیا اس پر راضی رہو لوگوں سے غنی ہو جاؤگے ۴؎اور اپنے پڑوسی سے اچھا سلوک کرو کہ مؤمن ہوجاؤگے ۵؎اور لوگوں کے لیے وہ ہی چاہو جو اپنے لیے چاہتے ہو مسلمان ہوجاؤ گے۶؎اور زیادہ ہنسو نہیں کیونکہ زیادہ ہنسی دل کو مردہ کردیتی ہے ۷؎(احمد، ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے ۸؎

شرح حدیث

۱∞؎اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ علم دین بہرحال اعلٰی نعمت ہے اگر عمل بھی نصیب ہوجائے توسبحان الله!، بغیر عمل بھی علم نعمت ضرور ہے، نیز بے عمل عالم پر تبلیغ ضروری ہے اور اسے تبلیغ کا ثواب ضرور ملے گا کیونکہ فرمایا گیا کہ ان باتوں پر یا عمل کرلے یا عاملین کو پہنچائے۔(اشعہ) ہوسکتا ہے کہاوبمعنیبلہو یعنی خود عمل کرے بلکہ عمل کرنے والوں کو پہنچا بھی دے۔ (مرقات)
۲
؎یا میری انگلیاں شمار فرمائیں یا انگلیوں پر یہ باتیں شمار فرمائیں،چونکہ یہ پانچوں باتیں ترتیب وار ہیں کہ بعض بعض سے پہلے ہیں اس لیے ترتیب وار انگلیوں پر گنائیں۔
۳
؎حرام چیزوں حرام کاموں سے بچنا تقویٰ کا پہلا درجہ ہے اس لیے حضور انور نے اسے پہلے بیان فرمایا۔آج کل لوگ بہت ورد وظیفے نوافل کو ہی تقویٰ سمجھتے ہیں،ان پر عامل ہوتے ہیں مگر جھوٹ،غیبت،دوسروں کا حق دبانے سے پرہیز نہیں کرتے سخت غلطی کرتے ہیں۔پہلے جسم و کپڑے ناپاکیوں سے پاک کرو پھر نماز پڑھو،برائیوں سے بچنا بڑی عبادت ہے۔
۴
؎اس فرمان عالی کا مطلب یہ نہیں کہ ترقی کی کوشش نہ کرو ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہو بلکہ مقصد یہ ہے نہ تو دوسروں پر حسد کرو نہ دنیاوی عروج نہ ملنے پر کف افسوس ملا کرو،نہ رب تعالٰی کی شکایت کرو کہ فلاں کو اتنا دیا ہم کو کم۔حضور غوث الثقلین سید شیخ عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں تیری بھاگ دوڑ سے مقسوم سے زیادہ نہ ملے گا اور تیری قناعت کی وجہ سے کم نہ ملے گا اس لیے راضی بہ رضا رہ۔(مرقات)امام ابوالحسن شاذلی فرماتے ہیں کہ دو چیزوں سے مایوس ہوجاؤآرام سے رہو گے:ایک یہ کہ تم کو دوسروں کے نصیب کی چیزیں مل جاوے گی،دوسرے یہ کہ تمہیں تمہارے نصیب سے زیادہ مل جاوے گا۔(مرقات)
۵
؎یعنی اگر تمہارا پڑوسی تم سے برائی بھی کرے مگر تم اس سے بھلائی کرو تو مؤمن کامل ہوجاؤگے۔حضور صلی الله علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انسان اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کا پڑوسی اس کی شرارت و فتنوں سے محفوظ نہ ہوجاوے اسے امان نہ ہوجائے۔
۶
؎یہاں اسلام علاوہ ایمان کے اور صفت ہے یعنی تم جیسے اپنا بھلا چاہتے ہو ویسے ہی دوسروں کا بھلا چاہو اور جیسے برتاوا اپنے ساتھ چاہتے ہو ویسا ہی برتاوا تم دوسروں کے ساتھ کرو،جو بات اپنے لیے نا پسند کرتے ہو وہ دوسروں کے ساتھ نہ کرو تو تم مسلم یعنی سلامتی والے مسلمان بن جاؤگے۔
۷
؎یہاں ہنسنے سے مراد ٹھٹھہ مار کر ہنسنا ہے اور دل کی موت سے مراد غفلت ہے یعنی زیادہ وقت ہنسی قہقہہ میں گزارنا دل میں غفلت پیدا کرتا ہے۔خیال رہے کہ مسکرانا اچھی چیز ہے قہقہہ بری چیز،تبسم حضور صلی الله علیہ وسلم کی عادت کریمہ تھی جب کسی سے ملو مسکرا کر ملو۔شعر
جس کی تسکیں سے روتے ہوئے ہنس پڑے اُس تبسم کی عادت پہ لاکھوں سلام
۸
؎اس کی اسناد عن حسن عن ابی ہریرہ ہے اور خواجہ حسن نے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کو پایا نہیں مگر ایک اسناد عن مکحول عن واثلہ ابن اسقع ہے وہ اسناد متصل قوی،نیز یہ حدیث بہت سی اسنادوں سے مروی ہے لہذا یہ حدیث حسن ہے اور اگر ضعیف بھی ہو تو فضائل اعمال میں حدیث ضعیف قبول ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5171