باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5171
دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 5155
- 5156
- 5157
- 5158
- 5159
- 5160
- 5161
- 5162
- 5163
- 5164
- 5165
- 5166
- 5167
- 5168
- 5169
- 5170
- 5171
- 5172
- 5173
- 5174
- 5175
- 5176
- 5177
- 5178
- 5179
- 5180
- 5181
- 5182
- 5183
- 5184
- 5185
- 5186
- 5187
- 5188
- 5189
- 5190
- 5191
- 5192
- 5193
- 5194
- 5195
- 5196
- 5197
- 5198
- 5199
- 5200
- 5201
- 5202
- 5203
- 5204
- 5205
- 5206
- 5207
- 5208
- 5209
- 5210
- 5211
- 5212
- 5213
- 5214
- 5215
- 5216
- 5217
- 5218
- 5219
- 5220
- 5221
- 5222
- 5223
- 5224
- 5225
- 5226
- 5227
- 5228
- 5229
- 5230
- اگلا
حدیث مبارکہ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "من يَأْخُذُ عَنِّي هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ فَيَعْمَلُ بِهِنَّ،أَوْ يُعَلِّمُ مَنْ يَعْمَلُ بِهِنَّ؟ " قُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّه، فَأَخَذَ بِيَدِي، فَعَدَّ خَمْسًا فَقَالَ: "اتَّقِ الْمَحَارِمَ تَكُنْ أَعْبَدَ النَّاسِ، وَارْضِ بِمَا قَسَمَ اللَّهُ لَكَ تَكُنْ أَغْنَى النَّاسِ، وَأَحْسِنْ إِلَى جَارِكَ تَكُنْ مُؤْمِنًا، وَأَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ تَكُنْ مُسْلِمًا، وَلَا تُكْثِرِ الضَّحِكَ؛ فَإِنَّ كَثْرَةَ الضَّحِكِ تُمِيتُ الْقَلْبَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
عن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "من يأخذ عني هؤلاء الكلمات فيعمل بهن،أو يعلم من يعمل بهن؟ " قلت: أنا يا رسول الله، فأخذ بيدي، فعد خمسا فقال: "اتق المحارم تكن أعبد الناس، وارض بما قسم الله لك تكن أغنى الناس، وأحسن إلى جارك تكن مؤمنا، وأحب للناس ما تحب لنفسك تكن مسلما، ولا تكثر الضحك؛ فإن كثرة الضحك تميت القلب". رواه أحمد والترمذي وقال: هذا حديث غريب.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کون ہے جو مجھ سے یہ چند باتیں لے لے پھر ان پر عمل کرے یا اسے سکھا دے جو ان پر عمل کرے ۱؎میں نے عرض کیا یارسول الله میں ہوں تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑا پھر پانچ چیزیں گنیں ۲؎فرمایا حرام چیزوں سے بچو تمام لوگوں میں بڑے عابد ہوجاؤگے ۳؎اور اﷲنے جو تمہاری قسمت کردیا اس پر راضی رہو لوگوں سے غنی ہو جاؤگے ۴؎اور اپنے پڑوسی سے اچھا سلوک کرو کہ مؤمن ہوجاؤگے ۵؎اور لوگوں کے لیے وہ ہی چاہو جو اپنے لیے چاہتے ہو مسلمان ہوجاؤ گے۶؎اور زیادہ ہنسو نہیں کیونکہ زیادہ ہنسی دل کو مردہ کردیتی ہے ۷؎(احمد، ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے ۸؎
شرح حدیث
۱∞؎اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ علم دین بہرحال اعلٰی نعمت ہے اگر عمل بھی نصیب ہوجائے توسبحان الله!، بغیر عمل بھی علم نعمت ضرور ہے، نیز بے عمل عالم پر تبلیغ ضروری ہے اور اسے تبلیغ کا ثواب ضرور ملے گا کیونکہ فرمایا گیا کہ ان باتوں پر یا عمل کرلے یا عاملین کو پہنچائے۔(اشعہ) ہوسکتا ہے کہاوبمعنیبلہو یعنی خود عمل کرے بلکہ عمل کرنے والوں کو پہنچا بھی دے۔ (مرقات)
۲؎یا میری انگلیاں شمار فرمائیں یا انگلیوں پر یہ باتیں شمار فرمائیں،چونکہ یہ پانچوں باتیں ترتیب وار ہیں کہ بعض بعض سے پہلے ہیں اس لیے ترتیب وار انگلیوں پر گنائیں۔
۳؎حرام چیزوں حرام کاموں سے بچنا تقویٰ کا پہلا درجہ ہے اس لیے حضور انور نے اسے پہلے بیان فرمایا۔آج کل لوگ بہت ورد وظیفے نوافل کو ہی تقویٰ سمجھتے ہیں،ان پر عامل ہوتے ہیں مگر جھوٹ،غیبت،دوسروں کا حق دبانے سے پرہیز نہیں کرتے سخت غلطی کرتے ہیں۔پہلے جسم و کپڑے ناپاکیوں سے پاک کرو پھر نماز پڑھو،برائیوں سے بچنا بڑی عبادت ہے۔
۴؎اس فرمان عالی کا مطلب یہ نہیں کہ ترقی کی کوشش نہ کرو ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہو بلکہ مقصد یہ ہے نہ تو دوسروں پر حسد کرو نہ دنیاوی عروج نہ ملنے پر کف افسوس ملا کرو،نہ رب تعالٰی کی شکایت کرو کہ فلاں کو اتنا دیا ہم کو کم۔حضور غوث الثقلین سید شیخ عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں تیری بھاگ دوڑ سے مقسوم سے زیادہ نہ ملے گا اور تیری قناعت کی وجہ سے کم نہ ملے گا اس لیے راضی بہ رضا رہ۔(مرقات)امام ابوالحسن شاذلی فرماتے ہیں کہ دو چیزوں سے مایوس ہوجاؤآرام سے رہو گے:ایک یہ کہ تم کو دوسروں کے نصیب کی چیزیں مل جاوے گی،دوسرے یہ کہ تمہیں تمہارے نصیب سے زیادہ مل جاوے گا۔(مرقات)
۵؎یعنی اگر تمہارا پڑوسی تم سے برائی بھی کرے مگر تم اس سے بھلائی کرو تو مؤمن کامل ہوجاؤگے۔حضور صلی الله علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انسان اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کا پڑوسی اس کی شرارت و فتنوں سے محفوظ نہ ہوجاوے اسے امان نہ ہوجائے۔
۶؎یہاں اسلام علاوہ ایمان کے اور صفت ہے یعنی تم جیسے اپنا بھلا چاہتے ہو ویسے ہی دوسروں کا بھلا چاہو اور جیسے برتاوا اپنے ساتھ چاہتے ہو ویسا ہی برتاوا تم دوسروں کے ساتھ کرو،جو بات اپنے لیے نا پسند کرتے ہو وہ دوسروں کے ساتھ نہ کرو تو تم مسلم یعنی سلامتی والے مسلمان بن جاؤگے۔
۷؎یہاں ہنسنے سے مراد ٹھٹھہ مار کر ہنسنا ہے اور دل کی موت سے مراد غفلت ہے یعنی زیادہ وقت ہنسی قہقہہ میں گزارنا دل میں غفلت پیدا کرتا ہے۔خیال رہے کہ مسکرانا اچھی چیز ہے قہقہہ بری چیز،تبسم حضور صلی الله علیہ وسلم کی عادت کریمہ تھی جب کسی سے ملو مسکرا کر ملو۔شعر
جس کی تسکیں سے روتے ہوئے ہنس پڑے اُس تبسم کی عادت پہ لاکھوں سلام
۸؎اس کی اسناد عن حسن عن ابی ہریرہ ہے اور خواجہ حسن نے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کو پایا نہیں مگر ایک اسناد عن مکحول عن واثلہ ابن اسقع ہے وہ اسناد متصل قوی،نیز یہ حدیث بہت سی اسنادوں سے مروی ہے لہذا یہ حدیث حسن ہے اور اگر ضعیف بھی ہو تو فضائل اعمال میں حدیث ضعیف قبول ہے۔(مرقات)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5171