Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5199

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَا زَهِدَ عَبْدٌ فِي الدُّنْيَا إِلَّا أَنْبَتَ اللَّهُ الْحِكْمَةَ فِي قَلْبِهِ، وَأَنْطَقَ بِهَا لِسَانَهُ، وَبَصَّرَهُ عَيْبَ الدُّنْيَا وَدَاءَهَا وَدَوَاءَهَا، وَأَخْرَجَهُ مِنْهَا سَالِمًا إِلَى دَارِ السَّلَامِ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ما زهد عبد في الدنيا إلا أنبت الله الحكمة في قلبه، وأنطق بها لسانه، وبصره عيب الدنيا وداءها ودواءها، وأخرجه منها سالما إلى دار السلام". رواه البيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ نہیں بے رغبتی کرتا کوئی بندہ دنیا میں ۱؎مگر اتعالٰی اس کے دل میں حکمت اُگا دیتا ہے اور اس سے اس کی زبان میں گویائی دیتا ہے ۲؎ا ور اسے دنیا کے عیب اس کی بیماریاں اور ان کا علاج دکھا دیتا ہے ۳؎اور اسے دنیا سے جنت کی طرف سلامت نکالے گا ۴؎(بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں سےزھدسے مراد دنیا میں دل نہ لگانا ہے اگرچہ لاکھوں کا مالک ہو مگر دل یار سے لگا ہو تو وہ زہد ہی ہے،بعض شارحین نے فرمایا کہ حاجت سے زیادہ مال سے بے رغبت ہونا زہد ہے مرقات نے اسی کو اختیار کیا۔
۲
؎یعنی ایسے شخص کو اتعالٰی چند نعمتیں عطا فرماتا ہے:ایک یہ کہ اس کے دل میں علم و معرفت کے چشمے پھوٹیں گے ،دوسرے یہ کہ اس کی زبان پر تاثیر ہوگی اس سے ہمیشہ حق بات نکلے گی اور اس میں تاثیر ہوگی۔
۳
؎یعنی قدرتی طور پر اسے دنیا کی چیزوں کے عیوب معلوم ہوا کریں گے اور ان عیوب سے بچنے کا طریقہ بھی وہ قدرتی طور پر معلوم کرلیا کرے گا،وہ جو حدیث شریف میں ہے کہ اپنے دل سے فتویٰ لو یہ فرمان ایسے ہی لوگوں کے لیے ہے۔
۴
؎یعنیان شاءاﷲاس کا خاتمہ ایمان پر ہوگا اور اسے داخلہ جنت کا نصیب ہوگا۔اس سے اشارۃً معلوم ہوا کہ جو دنیا میں راغب ہوگا اس کا حال اس کےبرعکس ہوگا،اس طرح کہ دوسرے اعضاء کو دنیا میں بھی صرف کیا مگر دل میں ارسول کے سوا کوئی چیز نہ رکھی۔مکان کے
دو سرے کمرے سامان کے لیے ہوتے ہیں مگر مالک کا آرام کمرہ صرف مالک کی خلوت گاہ ہوتا ہےو ہاں کسی اور چیز کی گنجائش نہیں ہوتی۔ ہمارا دل رب کا خاص جلوہ گاہ ہے،جنت ہمارا گھر ہے جہاں سے رب نے ہمارے دشمن شیطان کو نکال دیا ہمارے دل رب تعالٰی کا گھر ہیں،افسوس ہے کہ ہم اس میں شیطان کو بسائیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5199