Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5172

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: ابْنَ آدَمَ تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي أَمْلأْ صَدْرَكَ غِنًى وَأَسُدَّ فَقْرَكَ، وَإِنْ لَا تَفْعَلْ مَلأْتُ يَدَكَ شُغُلًا وَلَمْ أسُدَّ فَقْرَكَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْن مَاجَهْ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن الله يقول: ابن آدم تفرغ لعبادتي أملأ صدرك غنى وأسد فقرك، وإن لا تفعل ملأت يدك شغلا ولم أسد فقرك". رواه أحمد وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے اونہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ الله تعالٰی فرماتا ہے اے انسان تو میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا میں تیرا سینہ غنا سے بھردوں گا اور تیری غریبی دور کردوں گا ۱؎اور اگر تو یہ نہ کرے گا ۱؎تو تیرا ہاتھ کام کاج سے بھردوں گا اور تیری فقیری بند نہ کروں گا ۳؎(احمد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی تو اپنا دل میری عبادت و اطاعت کے لیے خالی رکھ دست بکار دل بیار پر عمل کر،فراغت دل کے یہ ہی معنی ہیں،یہ مطلب نہیں کہ دنیا کا کاروبار نہ کر خود بھی بھوکے مرو بچوں کو بھی مارو۔دل کی دنیا دوسری ہے اگر اس پر عمل نصیب ہوگا توان شاءاﷲکمائی میں برکت دل میں فراغت حاصل ہوگی۔
۲
؎اس طرح کہ اپنا دل دنیا میں لگادے گا کبھی آخرت کی طرف مائل نہ ہوگا تو اس کا انجام وہ ہے جو حضور فرمارہے ہیں۔
۳
؎یعنی اگر تو نے اپنے کو دنیا کی فکروں میں ہی لگادیا تیرے دل میں دنیا اتر گئی تو تو کام کرے گا زیادہ فکر کرے گا زیادہ،ملے گا وہ ہی جو تیرے مقدر میں ہے تو مالدار ہو کر بھی فقیر ہی رہے گا دل کا چین اکی بڑی نعمت ہے،یہ اس کے ذکر سے نصیب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس سے مرفوعًا روایت ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام پر ملک،مال،علم پیش فرمائے گئے تو آپ نے علم اختیار فرمایا رب نے علم کی برکت سے انہیں ملک و دولت بھی عطا فرمائے۔(مرقات)اسے آخرت مانگو دنیا خود بخود مل جاوے گی، کسان دانہ کے لیے کاشت کرتا ہے بھوسا خود ہی مل جاتا ہے بندہ مؤمن کو روزی بے گمان ملتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5172