Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5192

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "مَا مَلأَ آدَمِيٌّ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ، بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ أُكُلَاتٌ يُقِمْنَ صُلْبَهُ، فَإِنْ كَانَ لَا مَحَالَةَ فَثُلُثٌ طَعَامٌ وَثُلُثٌ شَرَابٌ وَثُلُثٌ لِنَفَسِهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْن مَاجَهْ.

وعن المقدام بن معدي كرب قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "ما ملأ آدمي وعاء شرا من بطن، بحسب ابن آدم أكلات يقمن صلبه، فإن كان لا محالة فثلث طعام وثلث شراب وثلث لنفسه". رواه الترمذي وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مقدام ابن معد یکرب سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ کسی آدمی نے بمقابلہ پیٹ کے بدترین برتن کوئی نہ بھرا ۱؎انسان کے لیے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں۲؎پھر اگر زیادہ کی ضرورت ہی ہو ۳؎تو تہائی پیٹ کھانااور تہائی پیٹ پانی اور تہائی پیٹ اپنی سانس کے لیے ۴؎(ترمذی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎زیادہ پیٹ بھرنے سے مختلف بیماریاں پیدا ہوتی ہیں،نوے فیصدی بیماریاں پیٹ سے ہوتی ہیں پھر اس سے سخت غفلت پیدا ہوتی ہے دل میں نور نہیں آتا۔
۲
؎کیونکہ کھانا اس لیے ہوتا ہے کہ اس سے عبادات،ریاضات کی قوت پیدا ہو،یہ قوت بقدر ضرورت لقموں سے حاصل ہوجاتی ہے۔شعر
خوردن برائے زیسن و ذکر کردن است تو معتقد کہ زیستن از بہر خوردن است
۳
؎یعنی اگر تم چند لقموں پر صبر نہ کرسکو زیادہ کھانے کی رغبت ہو تو پیٹ کے تین حصے کرلو۔
۴
؎ایک حصہ کھانے کے لیے،ایک حصہ پانی کے لیے،ایک حصہ سانس آنے جانے کے لیےان شاءاﷲبہت کم بیمار ہوگے۔
صوفیاء فرماتے ہیں کہ قدرے بھوکا رہنے میں دس فائدہ ہیں: جسمانی صحت،دل کی صفائی ،طبیعت کی ہشاشی بشاشی یعنی چستی، دل کی نرمی، طبیعت میں انکسار و عجز،تکبرو غرور کا ٹوٹنا، گناہوں کی کمی، درمیانی درجہ کی نیند،عبادات کا شوق ،ذکر الٰہی میں لذت و ذوق وغیرہ۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5192