Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5178

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَا تَتَّخِذُوا الضَّيْعَةَ فَتَرْغَبُوا فِي الدُّنْيَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

وعن ابن مسعود قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لا تتخذوا الضيعة فترغبوا في الدنيا". رواه الترمذي والبيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعو د سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ باغات و کھیت نہ اختیار کرو ۱؎ورنہ تم دنیا میں راغب ہوجاؤگے ۲؎(ترمذی،بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎ضیعۃلفظ مشترک ہے اس کے بہت معانی ہیں:تجارات و کسب مال،باغات و اراضی۔دنیاوی مشاغل یہاں بمعنی باغات اراضی ہیں۔(اشعہ)
۲
؎یعنی یہ زمانہ جہاد اور سپاہیانہ زندگی کا ہے اس زمانہ میں باغات و کاشت میں مشغول نہ ہو ورنہ کفار تم کو ہلاک کردیں گے۔یہ فرمان عالی ہنگامی حالات کے ہیں جب کہ مسلمانان مدینہ ہر چہار طرف سے کفار میں گھرے تھے،اس وقت عیش و آرام کی زندگی، پختہ مکانات بنانے،دنیاوی کاروبار میں مصروف ہونے سے منع فرمادیا گیا تھا جیساکہ زمانہ جنگ میں رات کو روشنی کرنے کی اجازت نہیں ہوتی بم باری کے خوف سے لیکن جب حالات بدل گئے یہ احکام بھی نہ رہے۔چنانچہ خلافت عثمانیہ میں مسلمانوں نے اپنے گھر پختہ،مسجد نبوی شریف شاندار بنائی اور باغات و کھیتی باڑیاں خوب کیں۔خیال رہے کہ اس زمانہ میں جیسے مکانات پختہ کرنا ممنوع تھے ویسے ہی قبور پر عمارات سے منع کردیا گیا تھا،جب سکون کا زمانہ آیا تو حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم نے مکانات بھی پختہ بنائے اور بزرگوں کے مزارات پر عمارات بھی بنائیں تاکہ زائرین کو زیارت اور تلاوت اور عبادت وغیرہ میں سہولت ہو۔اس کی تحقیق ہماری کتاب جاء الحق میں دیکھو۔یا اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو باغات کھیتی باڑی میں ایسا مشغول ہو کہ دین کو بھول جاؤے، اس صورت میں یہ حکم دائمی ہے کھیتی باڑی ہی کیا جو چیز رب سے غافل کرے وہ ممنوع ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5178