Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5223

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مَالِكٍ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّهُ قِيلَ لِلُقْمَانَ الْحَكِيمِ: مَا بَلَغَ بِكَ مَا نرى؟ يَعْنِي الْفَضْلَ، قَالَ: صِدْقُ الْحَدِيثِ، وَأَدَاءُ الأَمَانَةِ، وَتَرْكُ مَا لَا يَعْنِينِي. رَوَاهُ فِي "الْمُوَطَّأ".

وعن مالك قال: بلغني أنه قيل للقمان الحكيم: ما بلغ بك ما نرى؟ يعني الفضل، قال: صدق الحديث، وأداء الأمانة، وترك ما لا يعنيني. رواه في "الموطأ".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مالک رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں مجھے خبر پہونچی ہے کہ لقمان حکیم سے پوچھا گیا ۱؎کہ اس بزرگی تک آپ کو کس چیز نے پہنچایا جو ہم دیکھ رہے ہیں فرمایا کہ بات کی سچائی اور امانت کی ادائیگی اور بے کار باتوں کو چھوڑ دینے سے ۲؎(مؤطا)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی دینی اور دنیاوی فضائل تمہیں کن اچھے اعمال کی بدولت نصیب ہوئے،اتعالٰی کو آپ کی کون سی ادا پسند آ گئی جس سے آپ کو یہ رتبے مل گئے۔ خیال رہے کہ نبوت تو خاص عطا ربانی ہے یہ کسی عمل کا نتیجہ نہیں مگر ولایت قرب الٰہی کسبی بھی ہوتی ہے کہ کبھی اپنے اعمال سے ملتی ہے،کبھی محض وہبی عطا ء ربانی۔اگر حضرت لقمان نبی ہیں تو یہ سوال نبوت کے متعلق نہیں دیگر مراتب کے متعلق ہے اور اگر آپ نبی نہیں تب تو کوئی سوال ہی نہیں۔
۲
؎جو چیز ہم کو دین یا دنیا میں نفع نہ دے اس کے پیچھے نہ پڑو اس کی تحقیقات نہ کرو،یہ بہت سی آفتوں بہت سے گناہوں سے انسان کو بچالیتا ہے یہ بہترین عمل ہے۔مثل مشہور ہے کہ جس گاؤں جانا نہ ہو اس کے راستہ کی تحقیق کرنا بیکار ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5223