Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5207

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَنْ طَلَبَ الدُّنْيَا حَلَالًا اسْتِعْفَافًا عَنِ الْمَسْأَلَةِ وَسَعْيًا عَلَى أَهْلِهِ وَتَعَطُّفًا عَلَى جَارِهِ لَقِيَ اللَّهَ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَوَجْهُهُ مِثْلُ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، وَمَنْ طَلَبَ الدُّنْيَا حَلَالًا مُكَاثِرًا مُفَاخِرًا مُرَائِيًا لَقِي اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ" وَأَبُو نُعَيْمٍ فِي "الْحِلْيَةِ".

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "من طلب الدنيا حلالا استعفافا عن المسألة وسعيا على أهله وتعطفا على جاره لقي الله تعالى يوم القيامة ووجهه مثل القمر ليلة البدر، ومن طلب الدنيا حلالا مكاثرا مفاخرا مرائيا لقي الله وهو عليه غضبان". رواه البيهقي في "شعب الإيمان" وأبو نعيم في "الحلية".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو حلال روزی تلاش کرے بھیک سے بچنے کے لیے اور اپنے گھر والوں پر کوشش کرے اپنے پڑوسی پر مہربانی کرنے کے لیے ۱؎وہ قیامت کے دن الله تعالٰی سے ایسے ملے گا کہ اس کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوگا۲؎اور جو حلال دنیا طلب کرے مال بڑھانے،فخر و تکبر کرنے،دکھلاوے کے لیے تو وہ الله سے ملے گا حالانکہ وہ اس پر ناراض ہوگا ۳؎(بیہقی شعب الایمان اور ابونعیم حلیہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مال کمانا تین مقصدوں کے لیے ہونا چاہیے: اپنی ذات،اپنے بال بچوں اور پڑوسیوں کے حقوق ادا کرنے کے لیے اور یہ تمام کام الله و رسول کی رضا کے لیے ہوں۔پہلی دو چیزیں واجب ہیں یعنی خود بھیک سے بچنا اور بال بچوں کے حقوق ادا کرنا،تیسری چیز یعنی پڑوسیوں سے مالی سلوک کرنا یہ مستحب ہے واجب نہیں مگر ثواب اس پر یقینی ہے۔
۲
؎یعنی الله کی رحمت اور دل کی خوشی کی وجہ سے اس کا چہرہ چمکیلا ہوگا۔اس حدیث نے گزشتہ تمام احادیث کی شرح کردی کہ وہاں دنیا جمع کرنے اور دنیا کمانے سے ممانعت جو فرمائی گئی ہے وہاں وہ دنیا مراد تھی جو جائز نیت سے نہ ہو۔نیت خیر سے دنیا کمانا عبادت ہے کیونکہ یہ بہت سی عبادات کا ذریعہ ہے۔
۳
؎معلوم ہوا کہ فخر و تکبر کے لیے حلال مال بھی جمع کرنا برا ہے تو حرام مال اس نیت سے جمع کرنا بدرجہا برا ہے کہ وہاں مال بھی حرام ہے نیت بھی حرام۔بہرحال مال میں تین چیزیں ہوں تو مال اچھی چیز ہے کمائی حلال، خرچ حلال اور نیت حلال۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5207