Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5208

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِنَّ هَذَا الْخَيْرَ خَزَائِنُ،لِتِلْكَ الْخَزَائِنِ مَفَاتِيحُ، فَطُوبَى لِعَبْدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ مِفْتَاحًا لِلْخَيْرِ مِغْلَاقًا لِلشَّرِّ، وَوَيْلٌ لَعَبْدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ مِفْتَاحًا لِلشَّرِّ مِغْلَاقًا لِلْخَيْرِ". رَوَاهُ ابْن مَاجَهْ.

وعن سهل بن سعد أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "إن هذا الخير خزائن،لتلك الخزائن مفاتيح، فطوبى لعبد جعله الله مفتاحا للخير مغلاقا للشر، وويل لعبد جعله الله مفتاحا للشر مغلاقا للخير". رواه ابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ خیر خزانے ہیں اور ان خزانوں کی کنجیاں ہیں ۱؎تو خوشخبری ہو اس بندے کے لیے جسے الله تعالٰی نے خیر کی کنجی اور شر کا بند قفل بنایا۲؎اور خرابی ہے اس بندے کی جسے الله تعالٰی نے شر کی کنجی اور خیر کا بند قفل بنایا ۳؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اچھے کام اور اچھی چیزیں بہت سی خوبیوں کے خزانے ہیں اور بعض انسان خزانوں کی چابیاں ہیں کہ وہ اچھے ہوجاویں تو دوسرے بھی اچھے ہوجاویں،اگر بادشاہ حکام،علماء مشائخ متقی ہوجاویں تو رعایا،شاگرد،مریدین خود بخود متقی بن جاویں۔الله تعالٰی ہمارے پاکستان کو متقی پرہیزگار مؤمن حکام نصیب کرے خود بخود دوسرے لوگ متقی بن جاویں گےالناس علی دین ملوکھم۔۲؎یعنی وہ شخص خوش نصیب ہے کہ اس کے ذریعہ لوگوں کو بھلائیاں نصیب ہوں اور ظلم و ستم بند ہوجاویں۔مال،علم بعض کے لیے قرب الٰہی کا ذریعہ ہے، بعض کے لیے دوری کا باعث،قریبًا ہر چیز کا یہ ہی حال ہے قرب الٰہی کا ذریعہ ہوتو خیر ہے ورنہ شر۔
۳
؎یعنی بعض لوگ ایسے شر پر ہوتے ہیں کہ ان کے شر سے دوسرے محفوظ نہیں ہوتے وہ لوگ منحوس ہیں۔دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگوں کے زمانہ اقتدار میں برکت ہی برکت ہوجاتی ہے ملک آباد،لوگ خوشحال ہوجاتے ہیں،بعض کے برسر اقتدار آتے ہی برکتیں ختم ہوجاتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5208