Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5168

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "أيُّكُمْ مَالُ وَارثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ؟ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا مَالُهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِ وَارِثِهِ، قَالَ: "فإِنَّ مَالهُ ما قَدَّمَ وَمالَ وَارِثِهِ مَا أَخَّر". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "أيكم مال وارثه أحب إليه من ماله؟ " قالوا: يا رسول الله ما منا أحد إلا ماله أحب إليه من مال وارثه، قال: "فإن ماله ما قدم ومال وارثه ما أخر". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم میں کون ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ پیارا ہو ۱؎صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا یارسول الله ہم میں سے کوئی نہیں مگر اسے اپنا مال ہی زیادہ پیارا ہے اپنے وارث کے مال سے،فرمایا تو اس کا مال وہ ہے جو آگے بھیج دے اور اس کے وارث کا مال وہ ہے جو چھوڑ جاوے۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی کون چاہتا ہے کہ میرے پاس مال نہ ہو،میرے عزیزوں کے پاس مال ہو،وہ سب امیر ہوں میں فقیر کنگال ہوں اس فرمان کا یہ مقصد ہے۔(اشعہ)لہذا اس فرمان عالی پر یہ اعتراض نہیں کہ بعض لوگوں کو دوسروں کا مال بڑا پسند ہوتا ہے یا یہ مقصد ہے کہ ایسا کون ہے جو دوسروں کا مال ان کے لیے سنبھال کر رکھے اپنا مال برباد کردے یا برباد ہونے دے۔
۲
؎خلاصہ یہ ہے کہ مال دوسروں کا ہے اعمال اپنے ہیں جو مال خیرات کردیا جاوے وہ اعمال بن گیا اور جو جمع کرکے چھوڑ گیا وہ نرا مال رہا اور جس مال کی زکوۃ نہ دی وہ اپنے لیے وبال وارثوں کے لیے مال ہوا۔خیال رہے کہ مال سے صدقات و خیرات کرتے رہنا پھر او رسول کی رضا کے لیے وارثوں کو غنی کرنے کے لیے مال چھوڑنا یہ بھی عبادت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5168