Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5221

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "كُلُّ مَخْمُومِ الْقَلْبِ صَدُوقِ اللِّسَانِ"، قَالُوا: صَدُوقُ اللِّسَانِ نَعْرِفُهُ فَمَا مَخْمُومُ الْقَلْبِ؟ قَالَ: "هُوَ النَّقِيُّ التَّقِيُّ لَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَلَا بَغْيَ، وَلَا غِلَّ وَلَا حَسَدَ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

وعن عبد الله بن عمرو قال: قيل لرسول الله -صلى الله عليه وسلم-: أي الناس أفضل؟ قال: "كل مخموم القلب صدوق اللسان"، قالوا: صدوق اللسان نعرفه فما مخموم القلب؟ قال: "هو النقي التقي لا إثم عليه ولا بغي، ولا غل ولا حسد". رواه ابن ماجه والبيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ لوگوں میں سے کون افضل ہے؟ فرمایا ہر سلامت دل والا ۱؎سچی زبان والا، لوگوں نے عرض کیا کہ سچی زبان والے کو تو ہم جانتے ہیں تو سلامت دل والا کیا ہے ؟ ۲؎فرمایا وہ ایسا ستھرا ہے جس پر نہ گناہ ہو نہ بغاوت نہ کینہ اور نہ حسد ۳؎(ابن ماجہ، بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎مخمومبنا ہےخمسے،خمکے معنی ہیں گھر میں جھاڑو دینا،کہا جاتا ہےخمیت البیتدل گویا گھر ہے اسے برائیوں سے بچانا گویا اس میں جھاڑو دینا ہے۔
۲
؎حضور صلی الله علیہ وسلم ایسے فصیح اللسان ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سمجھنے کے لیے لغت کی تلاش کرنی پڑتی ہے۔ یہ پوچھنے والے حضرات عرب تھے صاحبِ زبان تھے مگر مخموم کا ترجمہ پوچھ رہے ہیں۔
۳
؎ہر چیز کا کوڑا کچرا مختلف ہوتا ہے۔دل کا کوڑا یہ چیزیں ہیں جن سے دل میلا ہوتا ہے،پھر جیسے ناپاک بدن اس مسجد میں آنے کے قابل نہیں ایسے ہی ناپاک دل مسجد قرب الٰہی کے قابل نہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِلَّا مَنْ اَتَی اللہَ بِقَلْبٍ سَلِیۡمٍ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5221