Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5188

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- نَامَ عَلَى حَصِيرٍ، فَقَامَ وَقَدْ أَثَّرَ فِي جَسَدهِ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نَبْسُطَ لَكَ وَنَعْمَلَ، فَقَالَ: "مَا لِي وَلِلدُّنْيَا؟ وَمَا أَنَا وَالدُّنْيَا إِلَّا كَرَاكِبٍ اسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْن مَاجَهْ.

وعن ابن مسعود: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- نام على حصير، فقام وقد أثر في جسده، فقال ابن مسعود: يا رسول الله! لو أمرتنا أن نبسط لك ونعمل، فقال: "ما لي وللدنيا؟ وما أنا والدنيا إلا كراكب استظل تحت شجرة ثم راح وتركها". رواه أحمد والترمذي وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعود رضي الله عنه سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ایک چٹائی پر سوئے پھر اٹھے اس حالت میں کہ چٹائی نے آپ کے جسم اطہر میں اثر کیا ہوا تھا ۱؎تب ابن مسعود نے عرض کیا یارسول الله ہم کو آپ اجازت دے دیتے کہ ہم حضور کے لیے بستر بچھادیا کرتے اور سب انتظامات کردیتے ۲؎تو فرمایا مجھے دنیا سے کیا تعلق میں اور دنیا نہیں ہیں مگر اس سوار کی طرح جو ایک درخت کے نیچے سایہ لے پھر چلا جائے اور درخت کو چھوڑ جائے ۳؎(ترمذی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎اس وقت جسم اطہر پر قمیض بھی نہ تھی صرف تہبند مبارک زیب تن فرمائے ننگی چٹائی پر آرام فرمایا تھا۔شعر
بوریا ممنون خواب راحتش تاج کسرٰی زیر پائے امتش
۲
؎یہاںلوشرط کے لیے نہیں بلکہ تمنا اور آرزو کے لیے ہے یعنی کاش کہ حضور ہم غلاموں کو اجازت دے دیتے تو ہم ہر قسم کے آرام کا انتظام حضور کے لیے کردیتے۔اعلٰی لباس،بہترین نرم بستر حضور صلی الله علیہ وسلم کی یہ سادگی ہم غلاموں سے دیکھی نہیں جاتی۔
۳
؎یعنی جیسے یہ سوار اتنی دیر آرام کے لیے اپنا بستر وغیرہ نہیں کھولتا بلکہ زمین پر ہی لیٹ کر دھوپ ڈھل جانے پر چل دیتا ہے ایسے ہی ہمارا حال ہے کہ ہم کونین کے مالک ہیں مگر اپنے لیے کچھ نہیں رکھتے۔لہذا حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے پردہ فرمانے کے بعد دنیا کو اور اپنی امت کو چھوڑ دیا،ان سب سے بے تعلق ہوگئے،اگر حضور صلی الله علیہ وسلم ہم کو چھوڑ دیں تو ہم ہلاک ہوجائیں،سورج دنیا کو چھوڑ دے تو دنیا اندھیری ہوجاوے،روح بدن کو چھوڑ دے توبدن مر جاوے،جڑ درخت کو چھوڑ دے تو درخت سوکھ جاوے،اگر حضور صلی الله علیہ وسلم دنیا کو چھوڑ دیں تو کوئی ااکہنے والا نہ رہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5188