Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5176

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "أَلَا إِنَّ الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ، وَمَلْعُونٌ مَا فِيهَا إِلَّا ذِكرُ اللَّهِ وَمَا وَالَاهُ،وَعَالِمٌ أَوْ مُتَعَلِّمٌ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.

وعنه أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "ألا إن الدنيا ملعونة، وملعون ما فيها إلا ذكر الله وما والاه،وعالم أو متعلم". رواه الترمذي وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے اونہیں سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہوشیار رہو دنیا لعنتی چیز ہے اور جو دنیا میں ہے وہ لعنتی ہے ۱؎سوائے اتعالٰی کے ذکر کے اور اس کے جو رب کے قریب کردے اور عالم کے اور طالب علم کے ۲؎(ترمذی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎ہم پہلے بتاچکے ہیں کہ جو چیز الله ورسول سے غافل کردے وہ دنیا ہے یا جو او رسول کی ناراضی کا سبب ہو وہ دنیا ہے،بال بچوں کی پرورش،غذا لباس،گھر وغیرہ حاصل کرنا سنت انبیاء کرام ہے یہ دنیا نہیں۔اس معنی سے واقعی دنیا اور دنیا والی چیزیں لعنتی ہیں۔
۲
؎یہ استثناء منقطع ہے کیونکہ یہ چیزیں دنیا نہیں ہیں۔الله کے ذکر سے مراد ساری عبادات ہیں۔والًابنا ہےولیسے بمعنی قرب یا محبت یا تابع ہونا یا سبب لہذا اس جملہ کے چار معنی ہیں: وہ حضرات انبیاء و اولیاء جو الله سے قریب کردیں یا الله تعالٰی ان سے محبت کرتا ہے،یا جو ذکر الٰہی سے قریب کردے،یا جو ذکر اکے تابع ہے،یا جو ذکر اکا سبب ہے۔(اشعہ)یعنی اکا ذکر اکے محبوب بندے علماء طلباء اگرچہ دنیا میں ہیں مگر دنیا نہیں ہیں یہ تو اکے محبوب ہیں۔حدیث شریف میں ہے کہ اکا ذکر ہر عبادت ہر سعادت کا سر ہے جیسے بدن کے لیے جان ضروری ہے ایسے ہی مؤمن کے لیے ذکر الازمی ہے۔ذکر اسے دنیا کا بقاء آسمان و زمین کا قیام ہے۔(مرقات)جب ذاکرین فنا ہوجائیں گے تو قیامت آجاوے گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5176