Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5182

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ خَبَّابٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "مَا أَنْفَقَ مُؤْمِنٌ مِنْ نَفَقَةٍ إِلَّا أُجِرَ فِيهَا إِلَّا نَفَقَتَهُ فِي هَذَا التُّرَابِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.

وعن خباب عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "ما أنفق مؤمن من نفقة إلا أجر فيها إلا نفقته في هذا التراب". رواه الترمذي وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت خباب سے وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں مسلمان کوئی خرچ نہیں کرتا مگر اس میں اسے ثواب دیا جاتا ہے سوائے اس کے خرچ کے اس مٹی میں ۱؎(ترمذی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی کھانے پینے لباس وغیرہ پر خرچ کرنے میں ثواب ملتا ہے کہ یہ چیزیں عبادات کا ذریعہ ہیں مگر بلا ضرورت مکانات بنانے میں کوئی ثواب نہیں لہذا عمارات سازی کا شوق نہ کرو اس میں وقت اور مال دونوں کی بربادی ہے۔خیال رہے کہ یہاں دنیاوی عمارتیں وہ بھی بلا ضرورت بنانا مراد ہیں، مسجد مدرسہ،خانقاہ مسافر خانے بنانے تو عبادات ہیں کہ یہ تو صدقات جاریہ ہیں،یوں ہی بقدر ضرورت مکان بنانا بھی ثواب ہے کہ اس میں سکون سے رہ کر الله کی عبادت کرے گا۔بعض لوگ دیکھے گئے وہ ہمیشہ مکان کی توڑ پھوڑ ہر سال نئے نمونے کے مکانات بنانے ہی میں مشغول رہتے ہیں یہاں یہ ہی مراد ہے۔(مرقات،اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5182