Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5186

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُثْمَانَ أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "لَيْسَ لِابْنِ آدَمَ حَقٌّ فِي سِوَى هَذِهِ الْخِصَالِ: بَيْتٌ يَسْكُنُهُ، وَثَوْبٌ يُوَارِي بِهِ عَوْرتَهُ، وَجِلْفُ الْخُبْزِ وَالْمَاءِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن عثمان أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "ليس لابن آدم حق في سوى هذه الخصال: بيت يسكنه، وثوب يواري به عورته، وجلف الخبز والماء". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عثمان سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان کا سوائے ان اشیاء کے اور چیز میں حق نہیں ہے ۱؎وہ گھر جس میں رہتا ہواور وہ کپڑا جو اس کا ستر چھپائے اور روٹی کا ٹکڑا اور پانی ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ان تین چیزوں کے سواء اور کسی چیز کی ضرورت نہیں قیامت میں ان تین کا حساب نہ ہوگا ان کے سواء اور چیزوں کا حساب دینا ہوگا،رب تعالٰی فرماتاہے:"ثُمَّ لَتُسْـَٔلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیۡمِ"وہاںنعیمسے مراد عیش و عشرت کی چیزیں ہیں۔ خیال رہے کہ شخصی زندگی فانی ہے قومی اور دینی زندگی باقی ہے لہذا مسلمان اپنی شخصی زندگی کے لیے معمولی سامان اختیار کرے، قومی و دینی زندگی کے لیے قیامت تک کا انتظام کرے۔حضور صلی الله علیہ وسلم نے دین اور قوم کے لیے ممالک فتح کیے مگر اپنی ذات کے لیے آرام دہ مکان بھی نہ بنایا یہاں شخصی زندگی اورشخصی حالتوں کا ذکر ہے۔
۲
؎گھر میں بقدر ضرورت گھر کا سامان داخل ہے،روٹی میں سالن شامل ہے،پانی میں دودھ لسی وغیرہ داخل ہیں جن کی کبھی ضرورت پڑتی ہے،حضور انور نے دودھ لسی وغیرہ ملاحظہ فرمائی ہیں۔حضرت ابراہیم ابن ادھم فرماتے ہیں شعرو ما ھی الا جوعۃ ان سددتھا فکل طعام بین جنبیك واحد

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5186