باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5162
دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 5155
- 5156
- 5157
- 5158
- 5159
- 5160
- 5161
- 5162
- 5163
- 5164
- 5165
- 5166
- 5167
- 5168
- 5169
- 5170
- 5171
- 5172
- 5173
- 5174
- 5175
- 5176
- 5177
- 5178
- 5179
- 5180
- 5181
- 5182
- 5183
- 5184
- 5185
- 5186
- 5187
- 5188
- 5189
- 5190
- 5191
- 5192
- 5193
- 5194
- 5195
- 5196
- 5197
- 5198
- 5199
- 5200
- 5201
- 5202
- 5203
- 5204
- 5205
- 5206
- 5207
- 5208
- 5209
- 5210
- 5211
- 5212
- 5213
- 5214
- 5215
- 5216
- 5217
- 5218
- 5219
- 5220
- 5221
- 5222
- 5223
- 5224
- 5225
- 5226
- 5227
- 5228
- 5229
- 5230
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِنَّ مِمَّا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِي مَا يُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَزِينَتِهَا"، فَقَالَ رجلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أوَ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟ فَسَكَتَ حَتَّى ظَننَّا أَنَّهُ يُنْزَلُ عَلَيْهِ، قَالَ: فَمَسَحَ عَنْهُ الرُّحَضَاءَ وَقَالَ: "أَيْنَ السَّائِلُ؟ " وَكَأَنَّهُ حَمِدَهُ، فَقَالَ: "إِنَّهُ لَا يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ، وَإِنَّ مِمَّا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ مَا يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ يُلِمُّ، إِلَّا آكلَةَ الْخَضِرِ أَكَلَتْ حَتَّى امْتَدَّتْ خَاِصرَتَاهَا اسْتقْبَلَتْ عَيْنَ الشَّمْسِ فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ، ثُمَّ عَادَتْ فَأَكَلَتْ،وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ وَوَضَعَهُ فِي حَقِّهِ فَنِعْمَ الْمَعُونَةُ هُوَ، وَمَنْ أَخَذَ بِغَيْرِ حَقِّهِ كَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، وَيَكُونُ شَهِيدًا عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وعن أبي سعيد الخدري أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "إن مما أخاف عليكم من بعدي ما يفتح عليكم من زهرة الدنيا وزينتها"، فقال رجل: يا رسول الله! أو يأتي الخير بالشر؟ فسكت حتى ظننا أنه ينزل عليه، قال: فمسح عنه الرحضاء وقال: "أين السائل؟ " وكأنه حمده، فقال: "إنه لا يأتي الخير بالشر، وإن مما ينبت الربيع ما يقتل حبطا أو يلم، إلا آكلة الخضر أكلت حتى امتدت خاصرتاها استقبلت عين الشمس فثلطت وبالت، ثم عادت فأكلت،وإن هذا المال خضرة حلوة، فمن أخذه بحقه ووضعه في حقه فنعم المعونة هو، ومن أخذ بغير حقه كان كالذي يأكل ولا يشبع، ويكون شهيدا عليه يوم القيامة". متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بعد جن چیزوں سے تم پر خوف کرتا ہوں وہ دنیا کی ترو تازگی دنیا کی زینت ہے جو تم پر کھول دی جاوے گی ۱؎تو ایک شخص نے عرض کیا یارسول الله کیا خیر بھی شر لاتی ہے۲؎تو حضور خاموش رہے حتی کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ پر وحی نازل ہورہی ہے ۳؎فرماتے ہیں پھر حضور نے اپنے سے پسینہ پونچھا اور فرمایا سائل کہاں ہے ؟ غالبًا حضور نے اس کی تعریف فرمائی پھر فرمایا کہ خیر شر کو نہیں لاتی ہے ۴؎جسے بہار اُگاتی ہے اس میں سے بعض وہ ہے جو پیٹ پھلا کر ہلاک کردیتی ہے یا بیمار کردیتی ہے ۵؎سوائے اس جانور کے جو سبزی کھائے حتی کہ اس کی کوکھیں تن جاویں ۶؎تو دھوپ میں آجاوے تو لوٹے پوٹے پیشاب کرے پھر لوٹ جاوے اور کھائے ۷؎اور یقینًا یہ مال ہرا بھرا میٹھا ہے ۸؎تو جو اسے اس کے حق سے لے اور اس کے حق میں خرچ کرے ۹؎تو وہ اچھا مددگار ہے ۱۰؎اور جو ناحق لے ۱۱؎وہ اس کی طرح ہوگا جو کھالے اور سیر نہ ہو ۱۲؎یہ مال اس کے خلاف قیامت کے دن گواہ ہوگا ۱۳؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی میری وفات کے بعد تم پر دنیا کی دولت،فتوحات،عزت و جاہ کے دروازے کھل جاویں گے ان کا مجھے خطرہ ہے کہ کبھی تم ان میں پھنس کر الله تعالٰی سے غافل نہ ہوجاؤ،غریبی میں خدا یاد رہتاہے اور امیری میں بھول جاتا ہے۔شعر
بادہ نوشیدن دہش زشستن سہل است گر بدولت رسی ہشیار نشینی مردی
۲؎یہ سوال بہت ہی گہرا ہے۔مطلب یہ ہے کہ وہ مال و دولت،جاہ و حشمت شر ہوگی یا خیر،اگر شر ہوگی تو رب تعالٰی آپ صلی الله علیہ وسلم کی امت کو کیوں دے گاآپ کی امت تو مرحومہ ہے اور اگر خیر ہوگی تو اس سے یہ شر کیسے پیدا ہوگی،خیر تو خیر ہی کا ذریعہ ہوتی ہے نہ کہ شرکا تو حضور انور صلی الله علیہ وسلم اندیشہ کیوں فرماتے ہیں۔
۳؎اس سائل کا سوال اتنا عمدہ تھا کہ اس کا جواب رب تعالٰی نے دیا حضور صلی الله علیہ وسلم پر وحی فرمایا،سوال بھی اعلٰی سوال کرنے والا بھی شاندار۔
۴؎اس جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ غنیمتیں دولت و عزت وغیرہ خیر ہی ہوں گی مگر اندیشہ یہ ہے کہ تم اس خیر کو غلط استعمال کرکے اپنے لیے وبال بنالو۔خیر ہمیشہ خیر ہی لاتی ہے مگر اس کا غلط استعمال شرکا باعث ہوجاتا ہے،جب حضور انور پر وحی آتی تھی تو پسینہ آجاتا تھا اگرچہ سردی کا موسم ہوتا۔
۵؎یہ نہایت نفیس مثال ہے کہ جنگل کا سبزہ الله کی نعمت ہے مگر جو گائے اسے ہوس کے ساتھ کھائے جائے بس ہی نہ کرے تو بیمار پڑ جاتی ہے،اسے اس سبزہ نے بیمار نہ کیا بلکہ اس کی ہوس نے اسے مصیبت میں ڈال دیا،یوں ہی جو شخص دنیا سے کبھی سیر نہ ہو،حرام و حلال میں تمیز نہ کرے،جو ملے قبضہ کرلے،الله کی عبادت کے لیے فارغ نہ ہو،ہر وقت دنیا طلبی میں سرگرداں رہے ظاہر ہے کہ وہ ہلاک ہوگا۔
۶؎پیٹ کی دو کروٹوں کا تن جانا پیٹ بھر جانے کی علامت ہوتی ہے۔مطلب یہ ہے کہ جب اس کا پیٹ خوب بھرگیا۔
۷؎یعنی جب پہلا چارہ ہضم ہوجاوے تب دو بارہ کھائے،یوں ہی مسلمان کو چاہیے کہ حلال روزی حاصل کرے وہ بھی صبر و قناعت کے ساتھ کہ کچھ وقت روزی کمانے کے لیے رکھے،کچھ وقت الله کی عبادت کے لیے،کمایا ہوا مال کچھ خود کھائے کچھ غرباء فقراء کو کھلائے اسی لیے اسلام میں روزانہ پانچ نمازیں فرض فرمائیں اور مال میں زکوۃ،فطرہ،قربانی وغیرہ کا حکم دیا۔نیز جو مسلمان گناہ کرے تو فورًا عنایت الٰہی کی دھوپ میں آئے توبہ کرے معافی چاہے،آئندہ زندگی احتیاط سے گزارے یہ مثال بہت پہلو رکھتی ہے۔
۸؎کہ دیکھنے میں بھی اچھا لگتا ہے برتنے میں بھی آرام دہ ہوتا ہے اس لیے لوگ اس میں جلد پھنس جاتے ہیں،تم احتیاط رکھو۔
۹؎یعنی مال اچھے راستے سے آئے،اچھے راستہ جائے۔اگر چھت کا پانی پرنالے سے نہ نکالا جائے تو چھت پھاڑ کر گھر گرا دیتا ہے۔
۱۰؎یعنی ایسی دنیا دین کی مددگار ہے جیسے حضرت سلیمان علیہ السلام اور حضرت عثمان غنی کی دولت کہ اس سے ان بزرگوں نے جنت خریدلی ایسی دولت الله کی رحمت ہے۔
۱۱؎اس طرح کہ حرام ذریعہ سے کمائے جوا،سود،رشوت چوری وغیرہ سے،اورحرام طرح سے جمع رکھے کہ اسے الله کی راہ میں خرچ نہ کرے،نہ کھائے نہ کھانے دے نہ کسی کو کھلائے،جمع کرکے چھوڑ جائے یہ جمع حرام ہے۔مشہور ہے کہ کنجوس کا مال اس کے مرے بعد صندوق سے نکلتا ہے۔
۱۲؎یعنی جیسے جوع البقر بیماری والا آدمی کھائے جاتا ہے سیرنہیں ہوتا حتی کہ کھاتے کھاتے مرجاتا ہے یہ ہی حال اس دنیا دار کا ہے۔
۱۳؎یعنی اس کا یہ مال اس کے لیے وبال ہوگا،اس کی حرص وہوس کی گواہی دے گا۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ دولت سانپ ہے اور دین اس کا تریاق۔جس کے پاس دین ہو اوس کے لیے دولت مفید ہے،بے دین کی دولت ہلاکت کا سبب ہے۔اس حدیث سے اشارۃً معلوم ہورہا ہے کہ متقی مؤمن کا مال قیامت میں اس کے ایمان تقویٰ اور سخاوت کا گواہ ہوگا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5162