Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5217

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ شَدَّادٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّ الدُّنْيَا عَرَضٌ حَاضِرٌ، يَأْكُلُ مِنْهَا الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، وَإِنَّ الآخِرَةَ وَعْدٌ صَادِقٌ، يَحْكُمُ فِيهَا مَلِكٌ عَادِلٌ قَادِرٌ، يُحِقُّ فِيهَا الْحَقَّ وَيُبْطِلُ الْبَاطِلَ، كُونُوا مِنْ أَبْنَاءِ الآخِرَةِ، وَلَا تَكُونُوا مِنْ أَبْنَاءِ الدُّنْيَا، فَإِنَّ كُلَّ أُمٍّ يَتْبَعُهَا وَلَدُهَا".

وعن شداد قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "يا أيها الناس! إن الدنيا عرض حاضر، يأكل منها البر والفاجر، وإن الآخرة وعد صادق، يحكم فيها ملك عادل قادر، يحق فيها الحق ويبطل الباطل، كونوا من أبناء الآخرة، ولا تكونوا من أبناء الدنيا، فإن كل أم يتبعها ولدها".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت شداد سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اے لوگو دنیا موجودہ سامان ہے ۱؎جس سے نیک و بد لوگ کھاتے ہیں ۲؎اور آخرت سچا وعدہ ہے جس میں انصاف والا قدرت والا بادشاہ فیصلہ کرے گا اس دن سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کر دکھائے گا ۳؎تم آخرت کی اولاد بنو اور دنیا کی اولاد میں سے نہ بنو کیونکہ ہر بچہ اپنی ماں کے پیچھے ہوگا ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎قرآن مجید میں دنیا کومتاعفرمایا گیا ہے حدیث شریف میںعرضلیکن دونوں کے معنی ہیں سامان،چونکہ دنیا کو چھوڑ کر انسان چلا جاتا ہے دوسرے آکر اسے برتتے ہیں اس لیے اسے متاع یا عرض کہتے ہیں۔زمین نے سب کو کھالیا زمین کو کسی نے نہ کھایا۔حاضربمعنی نقد یعنی ادھار کا مقابل دنیاوی کام کرو تو زندگی میں اس کا نفع نقصان مل جاتا ہےمگر آخرت کے کام کی جزاو سزا بعد قیامت،یہ بڑا ہی ادھار ہے جو برزخ و قیامت گزار کر وصول ہوتا ہے ۔
۲
؎یعنی دنیا کے آرام و تکالیف اعمال کی سزا و جزا نہیں،اگر کبھی کسی نیکی سے دنیا مل جائے تو وہ اس کی جزا نہیں ہے۔
۳
؎دنیاوی حکام کی سزاؤں جزاؤں سے انسان بچ سکتا ہے رب کے فیصلہ سے کوئی نہ بچ سکے گاکیونکہ نہ تو وہ ظالم ہے نہ بے علم نہ مجبور،وہاں بچنا صرف اس کے رحم و کرم سے ہے۔
۴
؎یہاں مال اور اولاد سے مراد وہ ہی ہے جو ابھی بیان کیا گیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5217