Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5195

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "يُجَاءُ بِابْنِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ بَذَجٌ، فَيُوقَفُ بَيْنَ يَدَي اللَّهِ، فَيَقُولُ لَهُ: أَعْطَيْتُكَ وَخَوَّلْتُكَ وَأَنْعَمْتُ عَلَيْكَ فَمَا صَنَعْتَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّ!جَمَعْتُهُ وَثَمَّرْتُهُ وَتَرَكْتُهُ أَكْثَرَ مَا كَانَ، فَارْجِعْنِي آتِكَ بِهِ كلِّهِ، فَيَقُولُ لَهُ: أَرِنِي مَا قَدَّمْتَ، فَيَقُولُ: رَبِّ جَمَعْتُهُ وَثَمَّرْتُهُ وَتَرَكْتُهُ أَكْثَرَ مَا كَانَ فَارْجِعْنِي آتِكَ بِهِ كلِّهِ، فَإِذَا عَبْدٌ لَمْ يُقَدِّمْ خَيْرًا، فَيُمْضَى بِهِ إِلَى النَّارِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَضَعَّفَهُ.

وعن أنس عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "يجاء بابن آدم يوم القيامة كأنه بذج، فيوقف بين يدي الله، فيقول له: أعطيتك وخولتك وأنعمت عليك فما صنعت؟ فيقول: رب!جمعته وثمرته وتركته أكثر ما كان، فارجعني آتك به كله، فيقول له: أرني ما قدمت، فيقول: رب جمعته وثمرته وتركته أكثر ما كان فارجعني آتك به كله، فإذا عبد لم يقدم خيرا، فيمضى به إلى النار". رواه الترمذي وضعفه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس رضی الله عنہ سے وہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن انسان بھیڑ کے بچے کی طرح لایا جاوئے گا تو اسے بارگاہِ الٰہی میں کھڑا کیا جاوے گا ۱؎تب رب تعالٰی اس سے فرمائے گا کہ میں نے تجھے عطائیں دیں،تجھے لونڈی غلام بخشے اور تجھ پر بہت انعام کیے۲؎تو تو نے کیا کیا۳؎تو وہ عرض کرے گا کہ یا رب میں نے وہ جمع کیں اور انہیں بڑھایااور جتنا تھا اسے زیادہ کرکے چھوڑ آیا ۴؎مجھے لوٹا دے کہ میں تیری بارگاہ میں وہ سارا لے آؤں ۵؎اس سے رب تعالٰی فرمائے گا کہ مجھے دکھا تو نے آگے کیا بھیجا؟ وہ کہے گا یارب میں نے جمع کیا اور اسے بڑھایا اور اب سے زیادہ کرکے چھوڑ آیا تو تو مجھے لوٹا دے میں تیرے پاس سارا لے آؤں وہ ایسا بندہ ہوگا جس نے کوئی بھلائی آگے نہ بھیجی ہوگی ۶؎تو اسے آگ کی طرف لے جایا جاوے گا۔(ترمذی)اور اسے ضعیف فرمایا۔

شرح حدیث

۱∞؎یہاں انسان سے مراد غافل مالدار آدمی ہے جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔لائے جانے سے مراد حساب و کتاب کے لیے بارگاہ الٰہی میں پیش کیا جانا ہے،اکے مقبول بندے بڑی عزت و احترام سے لائے جائیں گے،رب تعالٰی فرماتاہے:"یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیۡنَ اِلَی الرَّحْمٰنِ وَفْدًا وَّ نَسُوۡقُ الْمُجْرِمِیۡنَ اِلٰی جَہَنَّمَ وِرْدًا"لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں۔
۲
؎اعطیت،خولت،انعمتقریبًا ہم معنی ہیں۔یہاں فرق یوں ہے کہ میں نے تجھے دنیا کا مال و متاع دیا،تجھے لونڈی غلام بخشے اور تجھ پر کتاب و انبیاء کرام بھیجے۔(مرقات)اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ انعام سے مراد دنیاوی نعمتیں ہیں۔
۳
؎یعنی تو نے ان نعمتوں کاشکریہ کیا ادا کیا ؟ خیال رہے کہ ہر نعمت کا شکریہ علیحدہ ہے۔اس کی تفصیل ہماری تفسیر نعیمی دوسرے پارے"وَاشْکُرُوۡا لِیۡ وَلَا تَکْفُرُوۡنِ"کے ماتحت دیکھو۔اعضاء کا شکریہ بدنی عبادات ہیں،مال کا شکر یہ صدقات و خیرات قرآن مجید و غیرہ،ایمانیات کا شکریہ ان پر عمل کرنا ہے،حضور صلی الله علیہ وسلم کی کرم نوازیوں کا شکریہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل،آپ سے عشق و محبت،کثرت سے درود شریف پڑھنا ہے۔محسن کو دعائیں دینا بھی شکریہ ہے۔مولانا فرماتے ہیں شعر
چونکہ ذاتش ہست محتاج الیہ زاں سبب فرمود حق صلوا علیہ
۴
؎یہ ہے غافل کی سوانح عمری،محنت سے جوڑنا، مشقت سے حفاظت کرنا،حسرت سے چھوڑنا یہ گفتگو اس سے ہے جس نے دنیا میں مال کی زکوۃ،فطرانہ،قربانی ادا نہ کی سب کا سب جمع ہی کیا۔حقو ق الله او ر حقوق الناس کا خیال نہ کیا اب کہے گا کہ مجھے موقعہ دے کہ وہ سارا مال تیری بارگاہ میں حاضر کردوں تو قبول فرمالے حالانکہ اب عمل کا وقت نہیں رہا۔
۵
؎یعنی دنیا میں تو نے صدقہ و خیرات کتنی کی ؟ جو کہ تجھے آج کے دن کام آجاتی،یہ جگہ عمل کی نہیں نہ یہ وقت عمل کا ہے اب تو کیے ہوئے کا حساب دو۔
۶
؎اس جملہ نے گزشتہ پوری حدیث کی شرح لکھ دی کہ یہاں اس شخص کا ذکر ہے جو فاسق و فاجر تھا،زکوۃ و خیرات و حقوق ادا نہ کرتا تھا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5195