Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5211

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "الدُّنْيَا دَارُ مَنْ لَا دَارَ لَهُ، وَمَالُ مَنْ لَا مَالَ لَهُ، وَلَهَا يَجْمَعُ مَنْ لَا عَقْلَ لَهُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

وعن عائشة عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "الدنيا دار من لا دار له، ومال من لا مال له، ولها يجمع من لا عقل له". رواه أحمد والبيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا دنیا اس کا گھر ہے جس کا کوئی گھر نہ ہو ۱؎اور اس کا مال ہے جس کا کوئی مال نہ ہو ۲؎اور اس کے لیے وہ جمع کرتا ہے جس میں عقل نہ ہو ۳؎(احمد،بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎یہاںدارسے مراد عیش و عشرت کا گھر ہے یعنی دنیا کو عیش کی جگہ وہ ہی سمجھتا ہے جس کے مقدر میں آخرت کا عیش نہ ہو ورنہ مؤمن دنیا کو عمل کی جگہ اور رہنے کی منزل سمجھتا ہے کہ جتنی زندگی ہے اس میں کچھ کرلویہ پھر نہ ملے گی۔(مرقات)
۲
؎مال سے مراد حرام ذریعہ سے کمایا ہوا اور حرام جگہ خرچ کیا ہوا مال ہے۔یہ مال حقیقت میں مال نہیں نرا وبال ہے یعنی دنیاوی حرام مال کو وہ مال سمجھتا ہے جس کے نصیب میں حلال مال نہیں تم ایسے نہ بنو،مؤمن اس مال کو راہِ خدا میں خرچ کرکے آخرت سنبھالتا ہے۔
۳
؎یعنی غافل آدمی دنیاوی عیش و آرام کے لیے مال جمع کرتا ہے اور مؤمن آخرت کے لیے جمع کرتا ہے،غافل بے وقوف ہے ا ور مؤمن عاقل ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5211