Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5196

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ أَوَّلَ مَا يُسْأَلُ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ النَّعِيمِ أَنْ يُقَالَ لَهُ: أَلَمْ نُصِحَّ جِسْمَكَ؟ وَنُرَوِّكَ مِنَ المَاءِ الْبَارِدِ؟ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن أول ما يسأل العبد يوم القيامة من النعيم أن يقال له: ألم نصح جسمك؟ ونروك من الماء البارد؟ ". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ قیامت میں نعمتوں کے متعلق بندے سے پہلا سوال جو ہوگا وہ یہ کہ اس سے کہا جاوے گا ۱؎کہ کیا ہم نے تیرے جسم کو صحت نہیں بخشی اور کیا ہم نے تجھے ٹھنڈے پانی سے سیرنہیں کیا۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی دوسری نعمتوں کے مقابلہ میں ان نعمتوں کا حساب پہلے ہوگا لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں کہ پہلے نماز کا حساب ہوگایا پہلے ناحق خون کا حساب ہوگا اولیت بہت قسم کی ہے۔
۲
؎معلوم ہوا کہ دنیاوی نعمتوں میں سب سے اعلٰی نعمت تندرستی ہے کہ تمام نعمتیں اس کے ذریعہ استعمال ہوتی ہیں،پھر ٹھنڈا پانی اس کی قدر موسم گرما کے روزوں میں معلوم ہوتی ہے،پانی خود نعمت ہے،ٹھنڈا پانی نعمت پرنعمت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5196