باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5224
دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 5155
- 5156
- 5157
- 5158
- 5159
- 5160
- 5161
- 5162
- 5163
- 5164
- 5165
- 5166
- 5167
- 5168
- 5169
- 5170
- 5171
- 5172
- 5173
- 5174
- 5175
- 5176
- 5177
- 5178
- 5179
- 5180
- 5181
- 5182
- 5183
- 5184
- 5185
- 5186
- 5187
- 5188
- 5189
- 5190
- 5191
- 5192
- 5193
- 5194
- 5195
- 5196
- 5197
- 5198
- 5199
- 5200
- 5201
- 5202
- 5203
- 5204
- 5205
- 5206
- 5207
- 5208
- 5209
- 5210
- 5211
- 5212
- 5213
- 5214
- 5215
- 5216
- 5217
- 5218
- 5219
- 5220
- 5221
- 5222
- 5223
- 5224
- 5225
- 5226
- 5227
- 5228
- 5229
- 5230
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي هُرَيرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "تَجِيءُ الأَعْمَالُ فَتَجِيءُ الصَّلَاةُ فَتَقُولُ: يَا رَبِّ أَنَا الصَّلَاةُ، فَيَقُولُ: إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ، فَتَجِيءُ الصَّدَقَة فَتَقُولُ: يَا رَبِّ أَنَا الصَّدَقَةُ، فَيَقُولُ: إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ، ثُمَّ يَجِيء الصِّيَامُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ أَنَا الصِّيَامُ، فَيَقُولُ: إِنَّكَ عَلَى خَيْرٍ، ثُمَّ تَجِيءُ الأَعْمَالُ عَلَى ذَلِكَ، يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ، ثُمَّ يَجِيءُ الإِسْلَامُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ أَنْتَ السَّلَامُ وَأَنَا الإِسْلَامُ، فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّكَ عَلَى خَيْرٍ بِكَ الْيَوْمَ آخُذُ وَبِكَ أُعْطِي، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ: وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ".
وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "تجيء الأعمال فتجيء الصلاة فتقول: يا رب أنا الصلاة، فيقول: إنك على خير، فتجيء الصدقة فتقول: يا رب أنا الصدقة، فيقول: إنك على خير، ثم يجيء الصيام فيقول: يا رب أنا الصيام، فيقول: إنك على خير، ثم تجيء الأعمال على ذلك، يقول الله تعالى: إنك على خير، ثم يجيء الإسلام فيقول: يا رب أنت السلام وأنا الإسلام، فيقول الله تعالى: إنك على خير بك اليوم آخذ وبك أعطي، قال الله تعالى في كتابه: ومن يبتغ غير الإسلام دينا فلن يقبل منه وهو في الآخرة من الخاسرين".
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ اعمال آئیں گے ۱؎تو نماز آئے گی کہے گی یارب میں نماز ہوں فرمائے گا تو خیر پر ہے،پھر صدقہ آئے گا کہے گا یارب میں صدقہ ہوں فرمائے گا تو بھی خیر پر ہے ،پھر روزےآئیں گے عرض کریں گے یارب ہم روزے ہیں ۲؎تو فرمائے گا تم خیر پر ہو ،پھر باقی نیک اعمال بھی اسی طرح آئیں گے ۳؎رب تعالٰی فرمائے گا کہ تم خیر پر ہو ۴؎پھر اسلام آئے گا ۵؎تو عرض کرے گا یارب تو سلام ہے ۶؎اور میں اسلام ہوں ۷؎تو رب تعالٰی فرمائے گا کہ تو بھلائی پر ہے آج تیری وجہ سے میں پکڑوں گا اور تیرے ذریعہ سے دوں گا ۸؎الله تعالٰی نے اپنی کتاب میں فرمایا کہ جو کوئی اسلام کے سوا کوئی دین تلاش کرے گا اس سے ہرگز قبول نہ کیا جاوے گا اور وہ آخرت میں نقصان والوں سے ہیں ۹؎
شرح حدیث
۱∞؎یعنی قیامت کے دن انسان کے نیک و بد اعمال اس کے ساتھ بارگاہِ الٰہی میں پیش ہوں گے۔نیک اعمال تو شفاعت کرنے کے لیے اور برے اعمال شکایت کرنے اور اس کے خلاف گواہی دینے کے لیے،وہاں اعمال کا جسم بھی ہوگا اور شکل بھی،یہ بات کریں گے بھی اور سنیں گے بھی۔
۲؎ان اعمال کا یہ عرض کرنے اپنے عاملین کی شفاعت کی تمہید ہے۔عرض کریں گے خدایا تو نے قرآن مجید میں،تیرے محبوب صلی الله علیہ وسلم نے اپنی تعلیمات میں ہمارے بڑے فضائل بیان فرمائے ہیں فلاں فلاں بندہ ہمارا پابند تھا اسے بخش دے۔
۳؎حج عمرہ،جہاد،طلب علم،اچھے اخلاق وغیرہ سب ہی بارگاہِ الٰہی میں پیش ہوں گے اور یہ ہی عرض کریں گے اسی ترتیب پرآگے پیچھے۔
۴؎یعنی اے نیک عملو تم بھی خیر ہو تمہارے عاملین بھی خیر۔
۵؎ظاہر یہ ہے کہ یہاں اسلام سے مراد دین محمدی ہے یعنی اصطلاحی اسلام ممکن ہے کہ سارے ہی سچے عقیدے مراد ہوں تب تمام انبیاء کرام کے دین اس میں داخل ہیں۔
۶؎اسلام پہلے حمد الٰہی کرے گا شفاعت کی تمہید کے لیے جیسے ہمارے حضور صلی الله علیہ وسلم شفاعت کے لیے اولًا سجدہ اور سجدہ میں حمد الٰہی کریں گے۔سلام کے معنی سلامت رکھنے والا یعنی مولا تو اپنے بندوں کو سلامتی و امن بخشنے والا ہے۔
۷؎یعنی میرا کام ہے تیرے بندوں کو تیرے حضور سجدہ کرادینا تیرا مطیع بنادینا۔اسلام کے معنی سر بسجود ہونا،مطیع و فرمانبردار بننا، رب تعالٰی فرماتاہے: "فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّہٗ لِلْجَبِیۡنِ"۔مطلب یہ ہے کہ تیرا کام ہے بندوں کو امان دینا میرا کام ہے تیرے بندوں کو تیری امان میں لانا۔سبحان الله!کیسی پاکیزہ سفارش و شفاعت ہےخیر الکلام ما قل و دلاچھا کلام وہ ہے جو مختصر ہو مگر جامع ہو۔
۸؎یہ ہے رب تعالٰی کی طرف سے قبول شفاعت یعنی میری پکڑ اور میری معافی صرف تیرے ذریعہ سے ہے جو تیرا ہے وہ میرا ہے جو تیرا نہیں وہ میرا نہیں،مدار نجات صرف تو ہے تیرے بغیر کوئی عبادت قبول نہیں،تیرے ہوتے ہوئے کوئی دائمی دوزخی نہیں ۔
۹؎یہ آیت کریمہ اس فرمان عالی کی تائید ہے کہ بغیر اسلام کے کوئی عمل قبول نہیں۔اس آیت کریمہ میں اشارۃً فرمایا گیا کہ جو اسلام پر فوت ہوا اگرچہ کیسا ہی گنہگار ہو مگر وہ خسارہ والوں سے نہیں اس کی بخشش یقینی ہے خواہ اول سے معافی ہو کر یا کچھ سزا پا کر ہو دائمی دوزخ صرف کفار کے لیے ہے۔(مرقات)لہذا انسان کوشش بھی کرے اور دعا بھی کہ موت اسلام پر آوے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5224