Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5224

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "تَجِيءُ الأَعْمَالُ فَتَجِيءُ الصَّلَاةُ فَتَقُولُ: يَا رَبِّ أَنَا الصَّلَاةُ، فَيَقُولُ: إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ، فَتَجِيءُ الصَّدَقَة فَتَقُولُ: يَا رَبِّ أَنَا الصَّدَقَةُ، فَيَقُولُ: إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ، ثُمَّ يَجِيء الصِّيَامُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ أَنَا الصِّيَامُ، فَيَقُولُ: إِنَّكَ عَلَى خَيْرٍ، ثُمَّ تَجِيءُ الأَعْمَالُ عَلَى ذَلِكَ، يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ، ثُمَّ يَجِيءُ الإِسْلَامُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ أَنْتَ السَّلَامُ وَأَنَا الإِسْلَامُ، فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّكَ عَلَى خَيْرٍ بِكَ الْيَوْمَ آخُذُ وَبِكَ أُعْطِي، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ: وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ".

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "تجيء الأعمال فتجيء الصلاة فتقول: يا رب أنا الصلاة، فيقول: إنك على خير، فتجيء الصدقة فتقول: يا رب أنا الصدقة، فيقول: إنك على خير، ثم يجيء الصيام فيقول: يا رب أنا الصيام، فيقول: إنك على خير، ثم تجيء الأعمال على ذلك، يقول الله تعالى: إنك على خير، ثم يجيء الإسلام فيقول: يا رب أنت السلام وأنا الإسلام، فيقول الله تعالى: إنك على خير بك اليوم آخذ وبك أعطي، قال الله تعالى في كتابه: ومن يبتغ غير الإسلام دينا فلن يقبل منه وهو في الآخرة من الخاسرين".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ اعمال آئیں گے ۱؎تو نماز آئے گی کہے گی یارب میں نماز ہوں فرمائے گا تو خیر پر ہے،پھر صدقہ آئے گا کہے گا یارب میں صدقہ ہوں فرمائے گا تو بھی خیر پر ہے ،پھر روزےآئیں گے عرض کریں گے یارب ہم روزے ہیں ۲؎تو فرمائے گا تم خیر پر ہو ،پھر باقی نیک اعمال بھی اسی طرح آئیں گے ۳؎رب تعالٰی فرمائے گا کہ تم خیر پر ہو ۴؎پھر اسلام آئے گا ۵؎تو عرض کرے گا یارب تو سلام ہے ۶؎اور میں اسلام ہوں ۷؎تو رب تعالٰی فرمائے گا کہ تو بھلائی پر ہے آج تیری وجہ سے میں پکڑوں گا اور تیرے ذریعہ سے دوں گا ۸؎الله تعالٰی نے اپنی کتاب میں فرمایا کہ جو کوئی اسلام کے سوا کوئی دین تلاش کرے گا اس سے ہرگز قبول نہ کیا جاوے گا اور وہ آخرت میں نقصان والوں سے ہیں ۹؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی قیامت کے دن انسان کے نیک و بد اعمال اس کے ساتھ بارگاہِ الٰہی میں پیش ہوں گے۔نیک اعمال تو شفاعت کرنے کے لیے اور برے اعمال شکایت کرنے اور اس کے خلاف گواہی دینے کے لیے،وہاں اعمال کا جسم بھی ہوگا اور شکل بھی،یہ بات کریں گے بھی اور سنیں گے بھی۔
۲
؎ان اعمال کا یہ عرض کرنے اپنے عاملین کی شفاعت کی تمہید ہے۔عرض کریں گے خدایا تو نے قرآن مجید میں،تیرے محبوب صلی الله علیہ وسلم نے اپنی تعلیمات میں ہمارے بڑے فضائل بیان فرمائے ہیں فلاں فلاں بندہ ہمارا پابند تھا اسے بخش دے۔
۳
؎حج عمرہ،جہاد،طلب علم،اچھے اخلاق وغیرہ سب ہی بارگاہِ الٰہی میں پیش ہوں گے اور یہ ہی عرض کریں گے اسی ترتیب پرآگے پیچھے۔
۴
؎یعنی اے نیک عملو تم بھی خیر ہو تمہارے عاملین بھی خیر۔
۵
؎ظاہر یہ ہے کہ یہاں اسلام سے مراد دین محمدی ہے یعنی اصطلاحی اسلام ممکن ہے کہ سارے ہی سچے عقیدے مراد ہوں تب تمام انبیاء کرام کے دین اس میں داخل ہیں۔
۶
؎اسلام پہلے حمد الٰہی کرے گا شفاعت کی تمہید کے لیے جیسے ہمارے حضور صلی الله علیہ وسلم شفاعت کے لیے اولًا سجدہ اور سجدہ میں حمد الٰہی کریں گے۔سلام کے معنی سلامت رکھنے والا یعنی مولا تو اپنے بندوں کو سلامتی و امن بخشنے والا ہے۔
۷
؎یعنی میرا کام ہے تیرے بندوں کو تیرے حضور سجدہ کرادینا تیرا مطیع بنادینا۔اسلام کے معنی سر بسجود ہونا،مطیع و فرمانبردار بننا، رب تعالٰی فرماتاہے: "فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّہٗ لِلْجَبِیۡنِ"۔مطلب یہ ہے کہ تیرا کام ہے بندوں کو امان دینا میرا کام ہے تیرے بندوں کو تیری امان میں لانا۔سبحان الله!کیسی پاکیزہ سفارش و شفاعت ہےخیر الکلام ما قل و دلاچھا کلام وہ ہے جو مختصر ہو مگر جامع ہو۔
۸
؎یہ ہے رب تعالٰی کی طرف سے قبول شفاعت یعنی میری پکڑ اور میری معافی صرف تیرے ذریعہ سے ہے جو تیرا ہے وہ میرا ہے جو تیرا نہیں وہ میرا نہیں،مدار نجات صرف تو ہے تیرے بغیر کوئی عبادت قبول نہیں،تیرے ہوتے ہوئے کوئی دائمی دوزخی نہیں ۔
۹
؎یہ آیت کریمہ اس فرمان عالی کی تائید ہے کہ بغیر اسلام کے کوئی عمل قبول نہیں۔اس آیت کریمہ میں اشارۃً فرمایا گیا کہ جو اسلام پر فوت ہوا اگرچہ کیسا ہی گنہگار ہو مگر وہ خسارہ والوں سے نہیں اس کی بخشش یقینی ہے خواہ اول سے معافی ہو کر یا کچھ سزا پا کر ہو دائمی دوزخ صرف کفار کے لیے ہے۔(مرقات)لہذا انسان کوشش بھی کرے اور دعا بھی کہ موت اسلام پر آوے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5224