Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5181

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسلَا فِي غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِينِهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.

وعن كعب بن مالك عن أبيه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ما ذئبان جائعان أرسلا في غنم بأفسد لها من حرص المرء على المال والشرف لدينه". رواه الترمذي والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت کعب ابن مالک سے وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے دو بھوکے بھیڑیئے جو بکریوں میں چھوڑ دیئے جاؤیں وہ ان بکریوں کو اس سے زیادہ خراب نہیں کرتے جتنے انسان کے حرص کرنے سے مال و عزت پر اس کے دین کو ۱؎(ترمذی،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎نہایت نفیس تشبیہ ہے۔مقصد یہ ہے کہ مؤمن کا دین گویا بکری ہے اور اس کی حرص مال،حرص عزت گویا دو بھوکے بھیڑیئے ہیں مگر یہ دونوں بھیڑیئے مؤمن کے دین کو اس سے زیادہ برباد کرتے ہیں جیسے ظاہری بھوکے بھیڑیئے بکریوں کو تباہ کرتے ہیں کہ انسان مال کی حرص میں حرام و حلال کی تمیز نہیں کرتا،اپنے عزیز اوقات کو مال حاصل کرنے میں ہی خرچ کرتا ہے،پھر عزت حاصل کرنے کے لیے ایسے جتن کرتے ہیں جو بالکل خلاف اسلام ہیں جیسا آج ممبری وزارت چاہنے والوں کو دیکھا جارہا ہے۔ حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ ریا کار مرے بعد بھی ریا نہیں چھوڑتا،کسی نے پوچھا وہ کیسے،فرمایا وہ چاہتا ہے کہ میرے جنازہ میں بہت لوگ ہوں تاکہ میری عزت ہو،ریا مرے بعد بھی پیچھا نہیں چھوڑتی۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5181