Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5163

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "فَوَاللَّهِ لَا الْفَقْرُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ، وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُبْسَطَ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَتَنَافَسُوهَا كَمَا تَنَافَسُوهَا، وَتُهْلِكَكُمْ كَمَا أَهْلَكَتهُمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن عمرو بن عوف قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "فوالله لا الفقر أخشى عليكم، ولكن أخشى عليكم أن تبسط عليكم الدنيا كما بسطت على من كان قبلكم، فتنافسوها كما تنافسوها، وتهلككم كما أهلكتهم". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن عو ف سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے خدا کی قسم ! میں تم پر فقیری سے خوف نہیں کرتا لیکن میں تم پر اس سے خوف کرتا ہوں کہ تم پر دنیا پھیلادی جاوے جیسے تم سے پہلے والوں پر پھیلادی گئی تھی۲؎تو تم اس میں رغبت کر جاؤ جیسے وہ لوگ رغبت کر گئے اور تمہیں ویسے ہی ہلاک کردے جیسے انہیں ہلاک کردیا ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ انصاری صحابی ہیں،بدر میں شریک ہوئے،مدینہ منورہ میں قیام رہا۔
۲
؎یہ فرمان ایک بڑی حدیث کا ٹکڑا ہے جو حضور انور) صلی الله علیہ وسلم (نے صحابہ کرام کی مسکینیت دیکھ کر ارشاد فرمائی،یعنی تمہاری یہ فقیری عارضی ہے عنقریب تم بہت غنی ہوجاؤگے مگر فقیری خطرناک نہیں امیری سے خطرہ ہے کہ اس میں فتنے بہت ہیں۔
۳
؎حضور انور کا یہ فرمان حضرات صحابہ کو ڈرانے اور احتیاط برتنے کے لیے ہے۔الله تعالٰی نے حضور کے صحابہ کو دنیاوی ناجائز رغبت اور ہلاکت یعنی کفرو طغیان سے محفوظ رکھا،وہ حضرات بادشاہ و امیر ہوکر بھی دنیا میں پھنسے نہیں۔حضرت عمر رضی الله تعالٰی عنہ کے پاس اپنی خلافت کے زمانہ میں ایک ہی کرتہ تھا جسے دھو دھو کر پہنتے تھے،حضرت ابوبکر رضی الله عنہ کے کفن کے لیے گھر میں کپڑا نہ تھا،پہنے ہوئے کپڑے دھو کر انہیں میں آپ کو کفن دیا گیا،حضرت علی رضی الله عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں فرمایا کہ میں اپنی تلوار فروخت کرنا چاہتا ہوں کہ آج گھر کا خرچ چلا سکوں وہ حضرات امیری میں فقیری کرگئے۔رہیں ان کی آپس کی جنگیں،وہ دنیا کے لیے نہ تھیں،دیکھو ہماری کتاب امیر معاویہ پر ایک نظر۔لہذا اس حدیث سے یہ لازم نہیں آتا ہ وہ حضرات بہک گئے ہوں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5163