Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5205

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "هَلْ مِنْ أَحَدٍ يَمْشِي عَلَى الْمَاءِ إِلَّا ابْتَلَّتْ قَدَمَاهُ؟ " قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "كَذَلِكَ صَاحِبُ الدُّنْيَا لَا يَسْلَمُ مِنَ الذُّنُوبِ". رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

وعن أنس قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "هل من أحد يمشي على الماء إلا ابتلت قدماه؟ " قالوا: لا يا رسول الله، قال: "كذلك صاحب الدنيا لا يسلم من الذنوب". رواهما البيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کیا کوئی ایسا ہے جو پانی پر چلے اور اس کے پاؤں نہ بھیگیں ۱؎لوگوں نے عرض کیا نہیں یارسول الله فرمایا یوں ہی دنیا دار گناہوں سے محفوظ نہیں رہتا ۲؎ان دونوں حدیثوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا۔

شرح حدیث

۱∞؎نہایت نفیس تشبیہ ہے کہ یہ ناممکن ہے کہ انسان پانی میں چلے اور اس کے پاؤں نہ بھیگیں،پاؤں تو ضرو ربھگیں گے۔
۲
؎یہاں دنیا دار سے مراد دل میں دنیا کی محبت رکھنے والا ہے۔محبت دنیا تمام گناہوں کی جڑ ہے یا دنیا سے مراد وہ دنیا ہے جو انسان کو الله تعالٰی سے غافل کردے ۔دنیا صفر ہے آخرت عدد،اگر صفر اکیلا ہو بغیر عدد کے تو خالی ہے اگر عدد سے مل جاوے تو اسے دس گناہ کردیتا ہے۔ابوجہل کی دنیا گناہوں کی جڑ تھی اور آخرت سے الگ۔حضرت سلیمان و عثمان غنی کی دنیا دین کے ساتھ تھی لہذا نیکیوں کی جڑ تھی۔الله تعالٰی ابوجہل و قارون کی دولت سے ہر مسلمان کو بچائے حضرت عثمان کے خزانہ سے عطیہ دے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5205