Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5216

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرٍو: أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- خَطَبَ يَوْمًا فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ: "أَلَا إِنَّ الدُّنْيَا عَرَضٌ حَاضِرٌ، يَأْكُلُ مِنْهُ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، أَلَا وَإِنَّ الآخِرَةَ أَجَلٌ صَادِقٌ،وَيَقْضِي فِيهَا مَلِكٌ قَادِرٌ، أَلَا وَإِنَّ الْخَيْرَ كلَّهُ بِحَذَافِيرِهِ فِي الْجَنَّةِ، أَلَا وَإِنَّ الشَّرَّ كُلَّهُ بِحَذَافِيرِهِ فِي النَّارِ، أَلَا فَاعْمَلُوا وَأَنْتُمْ مِنَ اللَّهِ عَلَى حَذَرٍ، وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مَعْرُوضُونَ عَلَى أَعْمَالِكُمْ، فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ، وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ". رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ.

وعن عمرو: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- خطب يوما فقال في خطبته: "ألا إن الدنيا عرض حاضر، يأكل منه البر والفاجر، ألا وإن الآخرة أجل صادق،ويقضي فيها ملك قادر، ألا وإن الخير كله بحذافيره في الجنة، ألا وإن الشر كله بحذافيره في النار، ألا فاعملوا وأنتم من الله على حذر، واعلموا أنكم معروضون على أعمالكم، فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره، ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره". رواه الشافعي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ ارشاد فرمایا تو آپ نے خطبہ میں فرمایا آگاہ رہو کہ دنیا موجودہ سامان ۱؎ہے جس سے نیک و بد سب کھاتے ہیں،آگاہ رہو کہ آخرت سچی معیاد ہے جس میں قدرت والا بادشاہ فیصلہ فرمائے گا ۲؎خبردار کہ ساری خوبیاں اپنے کناروں سمیت جنت میں ہیں،آگاہ رہو کہ پوری مصیبت کناروں سمیت آگ میں ہے ۳؎خبر دار کہ تم الله سے ڈرتے ہوئے عمل کیا کرو ۴؎اور جان رکھو کہ تم اپنے اعمال پر پیش کیے جاؤگے ۵؎تو جو ذرّہ برابر نیکی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا اور جو ذرہ برابر برائی کرے گا وہ بھی اسے دیکھ لے گا ۶؎(شافعی)

شرح حدیث

۱∞؎عرض فانی سامان کو کہتے ہیں جو باقی نہ رہے۔دنیا کا مال رب تعالٰی کی رضا کی علامت نہیں،یہ مردودوں کو بھی مل جاتی ہے،ہاں دنیا میں توفیق خیر مل جانا رضا الٰہی کی دلیل ہے۔
۲
؎آخرت یعنی موت و قیامت کا وقت مقرر ہے،قیامت میں حاکم صرف الله تعالٰی ہی ہوگا،تمام بادشاہوں اور حکام کی حکومتیں ختم ہوچکی ہوں گی۔
۳
؎یعنی دنیا کی راحتیں تکالیف سے محفوظ ہیں اور یہاں کی تکالیف میں بھی کچھ راحتوں کو آمیزش ہے آخرت کی راحتیں تو خالص ہیں اور وہاں کی مصیبتیں ہیں تو وہ بھی خالص۔
۴
؎یعنی نیک اعمال کرتے رہواور ساتھ ہی رب تعالٰی سے ڈرتے رہو کہ نہ معلوم یہ عمل قبول ہوں یا نہ ہوں۔مؤمن کا کام ہے کہ عمل کرنا اور ڈرنا، غافل منافق کا کام ہے کہ نہ کرنا اور اکڑنا۔
۵
؎اس عبارت میں قلب ہے۔مقصد یہ ہے کہ تم پر تمہارے اعمال پیش ہوں گے مگر فرمایا کہ تم اعمال پر پیش ہوگے جیسے کہا جاتا ہےعرضت الحوض علی الناقۃمیں نے حوض کو اونٹنی پر پیش کیا حالانکہ اونٹنی حوض کے سامنے کی جاتی ہے،اردو میں کہا جاتا ہے کہ گجرات آگیا حالانکہ گجرات تو اپنی جگہ پر رہا ہم گجرات میں آ گئےایسے ہی یہ ہے۔
۶
؎ذرہ سے مراد یا توریت کا ذرہ ہے یا چھوٹی چیونٹی۔اس آیت کریمہ کی تحقیق یہ ہے کہمنسے مراد یا تو صرف مسلمان ہیں اور خیر سے مراد وہ نیکی ہے جو ضبط نہ ہوچکی ہو اور شر سے مراد وہ گناہ ہے جو معاف نہ ہوچکا ہو اور دیکھنے سے مراد اس کی سزا و جز ا بھگتنا یعنی اے مسلمان تجھ کو ذرہ بھر نیکی کی جزا ء اور ذرہ بھر گناہ کی سزا ملے گی بشرطیکہ نیکی ضبط نہ ہوئی ہو گناہ معاف نہ ہوا ہو،یامنسے مراد ہر انسان ہے مؤمن ہو یا کافر اور د یکھنے سے مراد ہے اپنے اعمال کو آنکھ سے دیکھ لینا سزا جزا ہو یا نہ ہو یعنی ہر انسان اپنے ہر عمل کو اپنی آنکھوں سے دیکھے گا کہ مؤمن کو اس کے گناہ دکھا کر معاف کیے جائیں گے،کافر کو اس کی نیکیاں دکھا کر ضبط کی جائیں گی لہذا یہ آیت نہ معافی کی آیات و احادیث کے خلاف ہے نہ ضبطی اعمال کی آیات کے خلاف۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5216