Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5156

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "وَاللَّهِ مَا الدُّنْيَا فِي الآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ، فَلْينْظُرْ بِمَ يَرْجِعُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن المستورد بن شداد قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "والله ما الدنيا في الآخرة إلا مثل ما يجعل أحدكم إصبعه في اليم، فلينظر بم يرجع". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مستورد ابن شداد سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اکی قسم نہیں ہے دنیا آخرت کے مقابل مگر ایسی جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے پھر دیکھے کہ انگلی کتنا پانی لے کر لوٹتی ہے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آپ بہت کم سن صحابی ہیں،حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے وقت بالکل نو عمر تھے مگر حضور صلی الله علیہ وسلم کا کلام شریف یاد رکھا،روایت کیا،مصر میں قیام رہا۔(اکمال،اشعہ)
۲
؎یہ بھی فقط سمجھانے کے لیے ہے ورنہ فانی اور متناہی کو باقی غیر فانی غیر متناہی سے وجہ نسبت بھی نہیں جو بھیگی اونگلی کی تری کو سمندر سے ہے۔ خیال رہے کہ دنیا وہ ہے جو الله سے غافل کر دے۔عاقل عارف کی دنیا تو آخرت کی کھیتی ہے اس کی دنیا بہت ہی عظیم ہے۔غافل کی نماز بھی دنیا ہے جو وہ نام نمود کے لیے کرتا ہے۔عاقل کا کھانا پینا،سونا جاگنا بلکہ جینا مرنا بھی دین ہے کہ حضورصلی الله علیہ وسلم کی سنت ہے۔مسلمان اس لیے کھائے پئے سوئے جاگے کہ یہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی سنتیں ہیں۔حیاۃ الدنیا اور چیز ہے،حیوۃ فی الدنیا اور،حیاۃ للدنیا کچھ اور یعنی دنیا کی زندگی،دنیا میں زندگی،دنیا کے لیے زندگی،جو زندگی دنیا میں ہو مگر آخرت کے لیے ہو دنیا کے لیے نہ ہو وہ مبارک ہے۔مولانا فرماتے ہیں شعر
آب در کشتی ہلاک کشتی است آب اندر زیر کشتی پشتی است
کشتی دریا میں رہے تو نجات ہے اور اگر دریا کشتی میں آجاوے تو ہلاک ہے۔مؤمن کا دل مال و اولاد میں رہنا چاہیے مگر دل میں ا
و رسول کے سوا کچھ نہ رہنا ضرو ری ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5156