Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5200

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَخْلَصَ اللَّهُ قَلْبَهُ لِلإِيمَانِ، وَجَعَلَ قَلْبَهُ سَلِيمًا، وَلِسَانَهُ صَادِقًا، وَنَفْسَهُ مُطْمَئِنَّةً، وَخَلِيقَتَهُ مُسْتَقِيمَةً، وَجَعَلَ أُذُنَهُ مُسْتَمِعَةً، وَعَيْنَهُ ناظِرَةً، فَأَمَّا الأُذُنُ فَقَمْعٌ، وَأَمَّا الْعَيْنُ فَمُقِرَّةٌ لِمَا يُوعَى الْقَلْبُ،وَقَدْ أَفْلَحَ مَنْ جَعَلَ قَلْبَهُ وَاعِيًا". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

وعنه أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "قد أفلح من أخلص الله قلبه للإيمان، وجعل قلبه سليما، ولسانه صادقا، ونفسه مطمئنة، وخليقته مستقيمة، وجعل أذنه مستمعة، وعينه ناظرة، فأما الأذن فقمع، وأما العين فمقرة لما يوعى القلب،وقد أفلح من جعل قلبه واعيا". رواه أحمد والبيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ کامیاب ہوگیا وہ جس نے اپنے دل کو ایمان کے لیے الله سے خالص کیا ہے اور اپنے دل کو سلامت رکھا ۱؎اور اپنی زبان کو سچا،اپنے دل کو مطمئن۲؎اور اپنی طبیعت کو سیدھا رکھا اور اپنے کان کو سننے والا اپنی آنکھ کو دیکھنے والا بنایا۳؎لیکن کان تو وہ چین کی خبر ہے ۴؎اور لیکن آنکھ تو وہ اس چیز کو قائم کرنے والی ہے جسے دل حفاظت کرتا ہے ۵؎کامیاب ہوگیا وہ جس نے اپنے دل کو حفاظت کرنے والا بنایا۶؎(احمد،بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی دل کو دل کی بیماریوں حسد،کینہ،بغض،بدعقیدگیوں اور غفلت کی چیزوں سے سلامت رکھا۔رب فرماتاہے :"اِلَّا مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبٍ سَلِیۡمٍ"۔صوفیاء کرام فرماتے ہیں کہسلیمکے معنی ہیں سانپ کا ڈسا ہوا۔دل وہ ہی پیارا ہے جسے عشق مولٰی کے سانپ نے ڈس کر دنیا سے مردہ کردیا۔
۲
؎نفس مطمئنہ وہ ہے جو اکی محبت اس کی اطاعت سے سرشار ہو۔طبیعت سیدھی وہ ہے جو تکلیف و آرام کسی حال میں یار کے دروازے سے نہ ہٹے،دنیا کی کوئی ہوا اسے جنبش نہ دے سکے۔
۳
؎یعنی اپنے کان سے یار کی بات سنے آنکھ سے قدرت کے نظارے کرے۔شعر
تجھی کو دیکھنا تیری ہی سننا تجھ میں گم ہونا حقیقت معرفت اہل طریقت اس کو کہتے ہیں
۴
؎قمعقاف کے فتحہ میم کے کسرہ سے برتن کے ڈھکنے میں رکھی ہوئی چیز یا برتن کا منہ کہ برتن میں جو چیز جاتی ہے اوس کے منہ سے جاتی ہےجو نکلتی ہے اوس کے منہ سے نکلتی ہے۔یعنی کان دل کا راستہ ہے اس راستہ سے اچھی باتیں دل تک پہنچتی ہیں۔
۵
؎یعنی آنکھ دل کا دوسرا راستہ ہے کہ اوس کے ذریعہ دل تک چیزیں پہنچتی ہیں محبوب کو آنکھ دیکھتی ہے تو دل محبت کرتا ہے۔کسی نے کہا ہے شعر
دیکھا جو حسن یار طبیعت مچل گئی آنکھوں کا تھا قصور چھری دل پہ چل گئی
مطلب یہ ہے کہ جسے دل محفوظ رکھتا ہے اوسے آنکھ ہی تو دل میں ثابت کرتی ہے،وہاں تک پہنچاتی ہے لہذا اپنے کان اور آنکھ کو صاف و پاک رکھو تاکہ ان راستوں سے دل تک اچھی چیزیں ہی پہونچا کریں۔
۶
؎القلبیا تو پیش سے ہے یعنی جس کے دل کو اکی طرف سے محافظ بنایا گیا،یا فتحہ سے ہے یعنی جس نے اپنے دل کو محافظ بنایا کہ دل میں الله رسول کی محبت اوس کی اطاعت کا جذبہ محفوظ رکھا،نیز بزرگوں کی وعظ و نصیحت یا درکھی۔ایسے قلب کو یقین سے ترقی ہو کر عین الیقین بلکہ حق الیقین عطا ہوتا ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰی یَاۡتِیَكَ الْیَقِیۡنُ"۔مفسرین فرماتے ہیں کہ اس آیت میںیقینسے مراد موت ہے کہ وہ یقینی چیز ہے،نیز موت سے ہر کافر کو اسلام کی حقانیت کا یقین ہوجاتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5200