Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5226

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- فَقَالَ: عِظْنِي وَأَوْجِزْ، فَقَالَ: "إِذَا قُمْتَ فِي صَلَاتِكَ فَصَلِّ صَلَاةَ مُوَدِّعٍ، وَلَا تَكَلَّمْ بِكَلَامٍ تَعْذِرُ مِنْهُ غَدًا، وَأَجْمِعِ الإِيَاسَ مِمَّا فِي أَيْدِي النَّاس".

وعن أبي أيوب الأنصاري قال: جاء رجل إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- فقال: عظني وأوجز، فقال: "إذا قمت في صلاتك فصل صلاة مودع، ولا تكلم بكلام تعذر منه غدا، وأجمع الإياس مما في أيدي الناس".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو ایوب انصاری سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا کہ مجھے نصیحت فرماؤاور مختصر فرماؤ ۱؎تو فرمایا کہ جب تم اپنی نماز میں کھڑے ہو تو رخصت ہونے والے کی سی پڑھو ۲؎اور کوئی ایسی بات نہ کرو جس سے کل معافی چاہو۳؎اور لوگوں کے قبضے کی چیزوں سے پورے مایوس ہوجاؤ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎مقصد یہ ہے کہ بہت سی باتیں نہ تو مجھے یاد رہیں گی نہ میں ان سب پر عمل کرسکوں گا اس لیے ایک دو باتیں ایسی بتائیں جن سے میرے دونوں جہاں درست ہوجاویں۔
۲
؎یعنی ہر نماز یہ سمجھ کر پڑھو کہ شاید یہ میری آخری نماز ہو اگلی نماز کا وقت آنے سے پہلے مجھے موت آجاوے۔ظاہر ہے کہ ایسی نماز اچھی طرح دل لگا کر ہی پڑھی جاوے گی،اس میں جواز اور قبول کی شرطیں خوب جمع ہوں گی یا اس کا مطلب یہ ہے کہ ماسوی الله کو چھوڑ کر اور سب سے وداع ہو کر صرف الله کی طرف دل لگا کر نماز پڑھو۔
۳
؎بہت ہی جامع نصیحت ہے یعنی اکثر خاموش رہو اگر بات کرنی پڑے تو اچھی بات کرو کسی کے دل دکھانے والی بات نہ کرو کہ پھر اس سے معافی مانگنی پڑے،خاموش رہنا صدہا گناہوں سے بچالیتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ گناہ کی بات نہ بولو جس سے توبہ کرنی پڑے۔ (اشعہ)
۴
؎یعنی کسی کے مال کی امید و لالچ نہ رکھو تمہارا دل غنی رہے گا تمہیں کسی کی خوشامد نہ کرنا پڑے گی۔(اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5226